استادغلام علی نے زندگی کی 79 بہاریں دیکھ لیں

استادغلام علی نے زندگی کی 79 بہاریں دیکھ لیں
لاہور: معروف غزل گائیک استاد غلام علی کے مداح آج ان کی 79 ویں سالگرہ منا رہے ہیں ۔

برصغیر میں چند غزل گائیک ہی ایسے گزرے ہیں جنھیں عالمی سطح پر پذیرائی ملی اوران ہی میں ایک زبردست،سریلی آواز استاد غلام علی کی بھی ہے ۔استاد غلام علی 1940میں سیالکوٹ کے ایک گاؤں کالیکے میں پیدا ہوئے ، معرف پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے غلام علی نے کم عمری میں ہی گانے کاآغاز کردیا، غلام علی کو پہلا بریک تھرو ریڈیو پاکستان سے ملا اور پھر اس کے بعد انہیں کامیابی ملتی چلی گئی ۔ان کی شہرت میں چارچاند تب لگے جب انہوں نے بھارتی فلم ' نکاح ' کے لیے حسرت موہانی کی خوبصورت غزل ' چپکے چپکے رات دن ' گائی ۔اس غزل کو بے انتہا پسند کیا گیا ۔

استاد غلام علی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ہمسایہ ملک سمیت پوری دنیا میں اپنی خوبصورت گائیکی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں ۔غزل سرائی میں ان کا انداز اور اتار چڑھاؤ بے حد خاص حیثیت رکھتا ہے ۔ استاد غلام علی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کلام کا انتخاب بہت سوچ بچار کے بعد کرتے ہیں اور پھر اپنی خوبصورت آواز میں جب ان لفظوں کو ڈھالتے ہیں تو بہت سے ایسے لوگ بھی ان کے دیوانے ہو جاتے ہیں جنھیں غزل کی کوئی خاص سمجھ نہیں ہوتی۔ان کی مشہور و معروف غزلوں میں 'چپکے چپکے رات دن' اور ' کل چودھویں کی رات تھی' ، ہنگامہ ہے کیوں برپا ، یہ دل یہ پاگل دل اور' ہم کو کس کے غم نے مارا' شامل ہیں۔استاد غلام علی کی بے شمار البمز اس وقت مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن میں 'تیرے شہر میں،مہتاب،خوشبو،سجدہ،وصال،The Enchanter،آوارگی وغیرہ بے حد مشہور ہیں۔استاد غلام علی کو پرائیڈ آ ف پرفارمنس، اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔