بارعب آوازکےمالک عزیزمیاں قوال کوبچھڑے 19برس بیت گئے

بارعب آوازکےمالک عزیزمیاں قوال کوبچھڑے 19برس بیت گئے
ویب ڈیسک: معروف عزیز میاں قوال کا آج 19 واں یوم وفات منایا جارہا ہے ۔عزیز میاں کی قوالی کامنفرد انداز آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔
عزیز میاں قوال 17 اپریل 1942 کو بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے ۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے معروف قوال عزیز میاں  نے بچپن سے ہی قوالی کی  تربیت لینا شروع کر دی تھی ۔انہوں نے پہلی مرتبہ 10 سال کی عمرقوالی سیکھنا شروع کی اور سولہ سال کی عمر تک قوالی کی تربیت حاصل کرتے رہے۔انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو اورعربی میں ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔
ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا۔ "میاں" ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے۔ یہ ہی تکیہ کلام بعد میں ان کے نام کا حصہ بن  گیا ۔ انہوں نے اپنے فنی دور کا آغاز "عزیز میاں میرٹھی" کی حیثیت سے کیا۔ میرٹھی کی وجہ تسمیہ یہ ہےکہ قیام پاکستان کے بعد عزیز میاں نے بھارت کے شہر میرٹھ سے  اپنے وطن کی طرف ہجرت کی تھی ۔
عزیزمیاں قوال نے اپنےمنفرد انداز سے وہ شہرت حاصل کی جو بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔ وہ ایک معروف قوال ہی نہیں بلکہ ایک عظیم  فلسفی بھی تھے ۔عزیز میاں اپنی زیادہ تر قوالیوں  کی شاعری خود لکھا کرتے تھے ۔ وہ بارعب آواز کے مالک تھے،ان کوشاعری پڑھنے میں بھی کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ وہ تصوف اورمعرفت کی محفلوں میں وہ اپنا لکھا ہواکلام ہی پیش کرتے تھے۔عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیوں میں" شرابی میں شرابی"، " تیری صورت" اور "اللہ ہی جانے کون بشر ہے " شامل ہیں۔ انہیں اپنی قوالیوں میں دینی اورصوفی مسائل پر بحث کرنے میں مہارت حاصل تھی۔
2000 میں عزیز میاں قوال کو یرقان کا عارضہ لاحق ہوا اور اسی سال ایرانی حکومت  نے انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی برسی کے موقع پر قوالی کے لیے دعوت دی ہوئی تھی ۔ایران کے اسی دورے کے دوران عزیز میاں 6 دسمبر 2000 کو ایران کے شہر تہران میں 58 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔انکے جسد خاکی کو وطن واپس  لایا گیا جہاں ان کی تدفین کی گئی۔ 
عزیزمیاں قوال کی قوالیاں آج بھی سننے والوں پر وجد طاری کر دیتی ہیں ۔ فن قوالی کے لیجنڈ کو پرائید آف پرفارمنس سمیت کئی اعزازات سے نوزا گیا۔