وزیراعظم آج کشمیریوں سےاظہار یکجہتی کیلئے آزادجموں کشمیراسمبلی سے خطاب کریں گے

وزیراعظم آج کشمیریوں سےاظہار یکجہتی کیلئے آزادجموں کشمیراسمبلی سے خطاب کریں گے
اسلام آباد: وزیراعظم نے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آج کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آزاد جموں کشمیر اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم نے اہلِ کشمیر کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے حوالے سے اپنے عزائم و مؤقف کو کل جاری ہونے والے پاکستان کے سیاسی نقشے میں بھی اجاگر اور نمایاں کر دیا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا  کہ  ہندوستان نےمقبوضہ جموں و کشمیر پرغیر قانونی قبضے کے ذریعے کشمیریوں کی آواز گُل کرنے کی کوشش کی ، میں کشمیر کے سفیر کے طور پردنیا میں بھارت کے خلاف آوازاٹھاتا رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ کئی  برسوں بعد میری حکومت نے کشمیر کا مقدمہ نہایت مؤثر طور پر اقوام متحدہ میں اٹھایا اور مودی سرکار کی نسل پرست فسطائیت (ہندوتوا) کو بے نقاب کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے  کہا کہ یومِ استحصال کےموقع پراہلِ کشمیرسےاظہارِ یکجہتی کیلئےمیں آج آزاد جموں وکشمیر کی اسمبلی سےمخاطب ہوں گا۔گزشتہ برس 5 اگست کےغیر قانونی اقدامات کےبعد سےاہلِ کشمیر کو بھارت کےہاتھوں ظالمانہ/ سفاک فوجی محاصرےکا سامنا ہے جبکہ مقبوضہ وادی میں آبادی کےتناسب میں تبدیلی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ 
 
 
 
 وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے اور بھارت کے خلاف احتجاج میں بھی شرکت کریں گے اور ریلی کے شرکا سے خطاب کریں گے۔ جس میں وزیراعظم مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑیں گے۔  دورہ آزاد کشمیر کے دوران حریت رہنماوں سے ملاقاتیں بھی وزیراعظم عمران خان کے شیڈول میں شامل ہیں۔
خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لگائے گئے کرفیو کو 1 سال مکمل ہوگیا، حکومت پاکستان نے اس روز یعنی 5 اگست کو یوم استحصال کشمیر کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
واضح رہے کہ 5 اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور بھارت نے کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یکم نومبر سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور وہاں رہنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔ مودی سرکار نے غیر معینہ مدت کے لیے کشمیر میں کرفیو لگا کر ظلم و ستم کی انتہا  کردی ہے  اور تمام مواصلاتی رابطے بند ہیں ۔