اپوزیشن جماعتوں کا جنوری میں لانگ مارچ کا فیصلہ

اپوزیشن جماعتوں کا جنوری میں لانگ مارچ کا فیصلہ
اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن نے حکومت کو جنوری تک کی مہلت دے دی ، اے پی سی میں آئندہ ماہ سے حکومت مخالف تحریک چلانے جبکہ جنوری میں لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جے یو پی کے اویس نورانی اور دیگر جماعتوں کے قائدین و رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
جی این این کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں چھبیس نکاتی قرارداد منظور کرلی گئی، جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد تشکیل دیا گیا۔ کانفرنس میں چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ گیا گیا۔ اے پی سی میں وزیر اعظم عمران خان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا گیا اور استعفیٰ نہ آنے کی صورت میں آئندہ ماہ سے ملک گیر حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت اکتوبر میں احتجاج اور عوامی ریلیاں نکالی جائیں گی جس میں تمام اپوزیشن جماعتیں شریک ہوں گی۔ ملک میں آزاد شفاف نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جائے گا، دسمبر میں حکومت مخالف احتجاج کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو صرف جنوری تک وقت دیا جائے گا، نئے انتخابات نہ کرانے پر دھرنا یا مارچ شروع کیا جائے گا، اس دوران اسمبلیوں سے مستعفی ہونا بھی آپشنز میں شامل ہوگا۔
کانفرنس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں اے پی سی کی قرارداد پیش کی، مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف، بلاول بھٹو اور مریم نواز سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا اے پی سی میں پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ تشکیل دی گئی ہے، یہ آئین اور وفاقی پارلیمانی نظام پر یقین رکھنے والی جماعتوں کا اتحاد ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت کو الیکشن میں دھاندلی سے عوام پر مسلط کیا گیا، اس لیے اے پی سی وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے، متحدہ اپوزیشن ملک گیر احتجاج کا بھی اعلان کرتی ہے، اکتوبر، نومبر میں بڑے شہروں میں مشترکہ جلسے کیے جائیں گے، دسمبر میں دوسرے مرحلے میں صوبائی دارالحکومتوں میں ریلیاں نکالی جائیں گی، جب کہ جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ ہوگا۔ قرارداد کے مطابق حکومت کی تبدیلی کے لیے پارلیمان کے اندر اور باہر تمام آپشنز استعمال کیے جائیں گے، آپشنز میں عدم اعتماد کی تحریک سمیت مناسب وقت پر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی شامل ہیں، اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں شفاف، آزادانہ اور غیر جانب دارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
اے پی سی کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صوبائی خود مختاری کا تحفظ کیا جائے گا اس پر سمجھوتا نہیں کریں گے، ملک میں صدارتی نظام کو رائج کرنے کے ارادوں کو رد کرتے ہیں، پارلیمان کی بالادستی پر کوئی بھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف شفاف بغیر مداخلت انتخابات کرائیں جائیں، پاکستان بار کونسل کی اے پی سی میں منظور متفقہ قرارداد کے نکات پر عمل کیا جائے۔
اے پی سی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین، رہنماؤں اور کارکنان پر جھوٹے مقدمات کی مذمت کرتے ہیں، حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، ملک میں شفاف، آزادانہ انتخابات یقینی بنائے جائیں، حکومت نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرے، غیر آئینی، غیر جمہوری، غیر قانونی شہری آزادیوں کے منافی قوانین کالعدم کیے جائیں، سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں احتساب کا نیا قانون بنایا جائے۔پنجاب میں تکمیل سے قبل ختم کیے گئے تحلیل کیے گئے بلدیاتی ادارے بحال کیے جائیں، ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات مسترد کرتے ہیں، پاکستان میں جامعات کی مالی مدد کر کے فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے، آغاز حقوق بلوچستان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ٹرتھ کمیشن بنایا جائے جو 1947 سے اب تک پاکستان کی حقیقی تاریخ کو دستاویزی شکل دے، چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کے لیے کمیٹی بنائی جائے گی۔