فوادچودھری اورفیصل واؤڈاکی نواز شریف کو بیرون ملک علاج کےلیےبھیجنےکی مخالفت

فوادچودھری اورفیصل واؤڈاکی نواز شریف کو بیرون ملک علاج کےلیےبھیجنےکی مخالفت
اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری اور وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واؤڈا نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی مخالفت کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومتی حلقوں میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے بھیجنے کی مخالفت کی آواز گونجنا شروع ہو گئی ہے ۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ میری ذاتی رائے ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنا زیادتی ہے ،نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سمری وفاقی کابینہ کو موصول نہیں ہوئی،وفاقی کابینہ کے تمام ارکان نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں،نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے سب کا متفق ہونا ممکن نہیں ۔
دوسری جانب وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واؤڈا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ نواز شریف اور شہبا زشریف وہاں جا رہے ہیں جہاں ان کی لوٹی ہوئی دولت ہے ،چچا آتے جاتے رہیں گے یہ پہلے بھی سعودی عرب بھاگ گئے تھے ،ڈاکٹر زکے مطابق علاج کی شرط یہ ہے کہ صرف مریم نواز ان کی عیادت کر سکتی ہیں۔
قبل ازیں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف شوگر کے بھی مریض ہیں جو کبھی کنٹرول میں نہیں رہی تھی،نواز شریف کی بیماری کی تشخیص ہو گئی ہے ،نواز شریف کی بیماری کی لمبی چوڑی تاریخ ہے ،کوشش کی گئی کہ نواز شریف کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں،نواز شریف جب ہسپتال گئے تو ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 28 ہزار تھی ،وہ جب ہسپتال سے گھر گئے تو بہتر ہو رہے تھے ،ان کی بیماری پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے بیرون ملک جانے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دی ،گزشتہ رات بورڈ کی میٹنگ ہوئی تھی ،ہم نے بورڈ سے کہا کہ جو ٹیسٹ آپ نےکرانے ہیں وہ لکھ کردیں ،ہم نے بورڈ سے پوچھا کون سے ایسے ٹیسٹ ہیں جو پاکستان میں نہیں ہو سکتے ۔نواز شریف کی طبیعت پہلی بارخراب نہیں ہوئی پہلے بھی خراب ہوتی رہی ہے ،مریض کی مرضی ہے جہاں سے چاہے علاج کرا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک سیاست کا تعلق ہے وہ میرے سیاسی حریف ہیں ،میرے سامنے این آر او جیسی کسی بات کا ذکر نہیں آیا۔
علاوہ ازیں گورنر پنجاب چودھری سرور کا کہنا ہے کہ امید ہے  سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام آج ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا،جس کے بعد وہ علاج کے لئے جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں،ہم اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتے، میں نے ذاتی طور پر اداروں سے بات چیت کی ہے،نواز شریف کی صحت سے متعلق سب فکر مند ہیں،ہم نے نواز شریف کی صحت کو سیاست میں نہیں لانا چاہتے،ہم نواز شریف کی صحت پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتے،نواز شریف کے لئے ایک میڈیکل بورڈ بنایا گیا،حکومت کے بنائے گئے میڈیکل بورڈ نے بھی بیرون ملک سے علاج تجویز کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے کسی سیاسی جماعت نے فائدہ یا نقصان اٹھا یا ،ہمیں اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
یا د رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام تاحال ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکا اور نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملہ پرچیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اہم اجلاس طلب کر لیا ہے،جس میں ایڈووکیٹ جنرل نیب سمیت متعلقہ حکام کو طلب کیا گیا ہے۔اجلاس میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے بارے وزارت داخلہ کے خط کا جائزہ لیا جائے گا اور اجلاس میں وزارت داخلہ کے خط پرحتمی فیصلہ ہو گا۔اجلاس میں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی فیملی کی جانب سے آج صبح 9:05 پر لاہور سے لندن کیلیے ٹکٹس بک کرائی گئی تھی۔نواز شریف،شہباز شریف اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی ٹکٹس بھی بک کرائی گئی تھی، تاہم ای سی ایل سے نام نہ نکلنے کے باعث بکنگ منسوخ کرادی گئی ہے۔نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلنے کے بعد دستیاب فلائٹ سے دوبارہ بکنگ کرائی جائے گی۔