امریکہ کا ٹک ٹاک سمیت دیگرچینی ایپس پر پابندی عائد کرنے پرغور

امریکہ کا ٹک ٹاک سمیت دیگرچینی ایپس پر پابندی عائد کرنے پرغور
واشنگٹن: امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیونے کہا ہے کہ ملک میں‌ ٹک ٹاک سمیت دیگر چینی ایپلی کیشنز پر پابندی عائد کرنے پرغور کیاجارہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے ایک امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے  کہا کہ امریکہ  ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے سے متعلق سنجیدگی سے غورکررہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ اپنی نجی معلومات چین کے ہاتھ میں دینا  چاہتے ہیں  تو اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرلیں ۔ 
امریکی قانون سازوں نےصارفین کی جانب سے ٹک ٹاک کے استعمال پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چینی قوانین کے بارے میں پریشان ہیں جن کے تحت نجی کمپنیاں کو وہاں کی خفیہ ایجنسیوں کیساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔ امریکی فوج کو خدشہ ہے کہ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی مالک کمپنی مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔ مذکورہ کمپنی کی جانب سے مشکوک سرگرمیوں کے اگرچہ فی الحال کوئی شواہد نہیں ہیں لیکن مستقبل میں ہوسکتا ہے کہ یہ کمپنی چینی حکومت کو فوجیوں کی ایسی معلومات فراہم کرے جو جاسوس بھرتی کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب ٹک ٹاک کے ترجمان نے پومپیو کے تبصرے کے بعد ایک بیان میں کہا  کہ"  ٹک ٹک کی قیادت ایک امریکی سی ای او کر رہے ہیں ، جس میں یہاں امریکہ میں  سینکڑوں ملازمین اور اہم رہنماؤں کے ساتھ  جو کہ  محفوظ، پراڈکٹ  اور عوامی پالیسی سے متعلق ہیں ، ہمارے پاس اپنے صارفین کے لئے محفوظ ایپ کے تجربے کو فروغ دینے سے بڑھ کر کوئی اعلی ترجیح نہیں ہے۔ ہم نے چینی حکومت کو کبھی صارف کا ڈیٹا فراہم نہیں کیا ، اور نہ ہی اگر پوچھا گیا تو ہم ایسا کریں گے۔"
خیال رہے کہ امریکہ میں 2020 کے پہلے تین ماہ میں 315 ملین افراد نے ٹک ٹاک ایپ ڈاون لوڈ کی تھی۔ ٹک ٹاک نے گزشتہ برس امریکہ سے 6 کروڑ 24 لاکھ ڈالر کمائی کی تھی اور یہ دنیا میں ڈاؤن لوڈ ہونے والی تیسری بڑی ایپ ہے۔ چین میں بنائی جانے والی اس ویڈیو ایپ کو دنیا بھر میں اب تک ایک ارب 50 کروڑ سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور یہ دنیا کی مقبول ترین ایپ میں شامل ہے۔