خاموش قاتل ، دنیا بھر میں 80 کروڑ بچے سیسے سے متاثرہیں : رپورٹ

خاموش قاتل ، د نیا بھر میں 80 کروڑ بچے سیسے سے متاثرہیں : رپورٹ
نیویارک : اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف اور پیور ارتھ نامی ادارے نے ایک مشترکہ رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق مطابق د نیا بھر میں 80 کروڑ بچے سیسے سے متاثر ہیں۔
سیسے کے زہریلے اثرات کے بارے میں عالمی سطح پر ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ سیسے کے زہریلے اثرات کا شکار ہے جس سے ان کی صحت کو ناقابلِ علاج نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ رپورٹ بچوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف اور پیور ارتھ نامی ادارے نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 80 کروڑ بچے سیسے سے متاثر ہیں جن کی زیادہ تعداد ترقی پذیر ممالک میں ہے۔ اس سے پہلے اس مسئلے کو اتنے بڑے پیمانے پر نہیں دیکھا گیا۔ یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فور کا کہنا ہے کہ
چند ابتدائی علامات کے ساتھ   اس کے ممکنہ مہلک نتائج، خاموشی سے بچوں کی صحت اور نشوونما پر تباہ کن اثرات ڈالتے ہیں ۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیسہ ایک قوی نیوروٹوکسن ہے جو بچوں کے دماغوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے تباہ کن ہے کیونکہ ان کے دماغ کو مکمل طور پر نشوونما کرنے سے پہلے ہی اس کا نقصان ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ عمر بھر اعصابی ، علمی اور جسمانی خرابی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔جبکہ ایسے بچوں میں جرم اور تشدد میں اضافہ بھی اس سے منسلک کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی عمر کے بچوں کو گردے کے نقصان کا خطرہ اور بعد میں قلبی امراض شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیسے سے متاثرہ بچوں کی عالمی تعداد کا لگ بھگ نصف جنوبی ایشیا میں ہے جبکہ پاکستان میں سیسے سے متاثرہ بچوں کی تعداد 4 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔ سیسے سے متاثرہ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پرہے جبکہ بھارت پہلے نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں نائجیریا دوسرے نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض مسالے، عمارتوں پر کیے جانے والے رنگ، بعض کھلونے سیسے کے زہریلے اثرات پھیلانے کا سبب ہیں، اس کے علاوہ رپورٹ میں بیٹریوں کی غیر قانونی ری سائیکلنگ سمیت خطرناک اقدامات فوری روکنےکامطالبہ بھی کیا گیا ہے۔