سیارہ زہرہ پر زندگی کے لیے ضروری گیس دریافت

سیارہ زہرہ پر زندگی کے لیے ضروری گیس دریافت
امریکہ: زمین کے پڑوسی سیارہ زہرہ پر گہرے بادلوں میں ایک اہم گیس کے آثار ملے ہیں جو حیات کی علامت ہوسکتے ہیں۔
تفصیلات مطابق ہوائی اور چلی میں واقع دوربینوں نے زہرہ کے گہرے بادلوں میں فاسفین گیس کے آثار دیکھے ہیں جس سے خیال ہے کہ وہاں عجیب و غریب خردنامئے موجود ہو سکتے ہیں۔ پیر کے روز ہفت روزہ نیچر میں شائع رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ یہ ایک بہت اہم دریافت ہے لیکن اسے کسی سیارے پر زندگی کی موجودگی کی حتمی شہادت نہیں کہا جاسکتا۔ فاسفین گیس بعض تالابوں کے فرش اور کچھ جانوروں کی آنتوں میں پائی جاتی ہے۔اس تحقیق کی شریک مصنفہ سارہ سیگر کہتی ہیں کہ ہم نے آتش فشانی عمل، بجلی کڑکنے اور چھوٹے شہابیوں سمیت تمام باتوں پر غور کرلیا لیکن ان میں سے کوئی بھی عمل فاسفین کی اتنی بڑی مقدار نہیں بناسکتا۔
ماہرینِ فلکیات ہمارے نظامِ شمسی اور اس سے باہر زندگی کی تلاش کے لیے ایسے کیمیائی اجزا کو ڈھونڈتے ہیں جو زندگی سے وابستہ ہوتے ہیں۔ فاسفین گیس یا تو تجربہ گاہ میں بنائی جاتی ہے یا پھر بعض جانوروں اور خردنامیوں کا حصہ بھی ہوتی ہے۔ بعض سائنسداں اسے جانداروں کے فضلے کا حصہ کہتے ہیں لیکن دیگر ماہرین اس سے متفق نہیں۔
 واضح رہے کہ یہ سیارہ اتنا گرم ہے کہ اسے ہاٹ ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور اس پر تیزابی بارش ہوتی رہتی ہے۔ سیارہ زہرہ پر پانی ناپید ہے اور سطح کا درجہ حرارت 425 درجے سینٹی گریڈ تک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نظامِ شمسی کا جہنم بھی کہا جاتا ہے۔