Advertisement

ترک شیف بوراک اوزدیمیر کے والد نے بیٹے کی طرف سے لگائے الزام کی تردید کر دی

بوران نے اپنے والد پر اس کے برانڈ کو غیر ملکی تاجر کو 41 ملین ڈالر میں فروخت کرنے کا الزام لگایا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 سال قبل پر جولائی 25 2023، 7:32 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
ترک شیف بوراک اوزدیمیر کے والد نے بیٹے کی طرف سے لگائے الزام کی تردید کر دی

ترکیہ کے معروف شیف بوراک اوزدیمیر کے اپنے والد پر فراڈ کے الزام کے بعد ان کے والد نے اسماعیل اوزدیمیر بھی میدان میں اتر گئے۔ اسماعیل نے بیٹے کے علم میں لائے بغیر اس کے برانڈ کو غیر ملکی تاجر کو 41 ملین ڈالر میں فروخت کرنے کے الزام کی تردید کردی۔

شیف بوراک کا اپنے والد اسماعیل سے چھ فروری کو جھگڑا پیدا ہوا تھا جس پر گزشتہ دنوں بوراک نے اپنے والد پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کردیا۔ والد نے اب اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا بیٹا مجھ پر الزام تراشی پبلسٹی اور شہرت کے لیے کر رہا رہے۔ بوراک ملک میں زلزلہ سے ہونے والی انسانی تباہی کو بھی غلط طریقے سے نفع حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

معروف شیف کے والد اسماعیل اوزدیمیر نے ترکیہ کے الیکٹرانک پلیٹ فارم او ڈی اے ٹی وی کی طرف سے رپورٹ کیے گئے بیانات میں کہا کہ ان کے بیٹے نے تقریباً 6 ماہ قبل ملک میں آنے والی قدرتی آفت کو بھی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے پروپیگنڈے کے مقصد سے زلزلہ متاثرین کو مدد فراہم کی۔ وہ زلزلہ زدگان کی مدد اپنے دل سے نہیں بلکہ کاروبار کی تشہیر کے لیے کر رہا تھا۔

والد اور بیٹے کے درمیان تنازع عدالت تک پہنچ گیا ہے۔ پہلا عدالتی سیشن ستمبر کے اوائل میں استنبول میں شروع ہونے والا ہے۔ ستمبر میں ہی ترک شیف بوراک استنبول میں اپنے نئے ریسٹورنٹ کھولیں گے۔

مقامی ترک میڈیا نے بتایا کہ مشہور ریسٹورنٹ چین کی ملکیت تقریباً 40 سال قبل ترک شیف کے والد کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور اسی وجہ سے وہ اسے ایک غیر ملکی تاجر کو 41 ملین ڈالر میں فروخت کرنے میں کامیاب ہوئے

Advertisement
Advertisement