جی این این سوشل

GNN NEWS LIVE | 24/7 News Updates | Shows & Exclusive Coverage | Live Stream

731 لوگ ابھی دیکھ رہے ہیں

1238444 کل دیکھنے والے

جی این این میں ویڈیوز سٹاف آپ کو روزانہ کی تازہ ترین سرخیاں ، شوز ، پروگرامز ، ایونٹس اور بہت کچھ فراہم کرے گا جب آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان

’صدراتی نظام کی کوئی حقیت نہیں ایک غبارہ ہے، جس کی جلد ہوا نکل جائے گی‘

جہانیاں: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ صدراتی نظام کی کوئی حقیت نہیں ایک غبارہ ہے، جس کی جلد ہوا نکل جائے گی۔

کی طرف سے

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا کہ  صدراتی نظام کی کوئی حقیت نہیں ایک غبارہ ہے، جس کی جلد ہوا نکل جائے گی۔  جنوبی پنجاب صوبہ 70 کی دہائی سے زیر بحث ہے، مگر تحریک انصاف اسے بنانے کے لئے سنجیدہ ہے،  پانچ مرتبہ پی پی اورچار دفعہ ن لیگ نے حکومت کی مگر جنوبی پنجاب صوبہ نہ بن سکا،  جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے عمران خان کی مشاورت سے دوتہائی اکثرت کے لئے بلاول اور شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے  ، خط میں لکھا ہے اگرآپ کی خواہش ہے تو جنوبی پنجاب صوبہ کے لیے مل کر بل اسمبلی میں بھیجتے ہیں۔

وزیرخارجہ  نے کہا کہ  سی پیک منصوبہ سست روی کا شکار نہیں ہے، اور نہ کوئی جھول ہے، کورونا کی وجہ سے ترجیحات تبدیل ہوئیں۔ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے وزرا خارجہ کے اجلاس سے افغانستان پر عائد پابندیوں کے خاتمہ کے لئے سلامتی کونسل میں بھی قرارداد پیش ہوئی ،  او آئی سی نے افغانستان کے لئے ایک ٹرسٹ قائم کیا، امریکہ نے انسانی ہمدردی کے حوالے سے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ  پاکستان تحریک انصاف نے گھروں کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں ہم نے ایک نئی ہاوسنگ پالیسی کا اجراء کیا،  ہاوسنگ پالیسی کے تحت متوسط طبقہ اور تنخواہ دار طبقہ کو بنک لون بھی دے رہے ہیں وہ اپنے گھر بھی بنا سکیں گے،  ملتان وہاڑی روڈ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جلد تعمیر کا آغاز ہوگا،  سیمنٹ اور سٹیل کی قیمتیں کنسٹرشن دوبارہ شروع ہونے کی وجہ سے اوپر جارہی ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آزادکشمیر میں زخمی ہونے والا تیندوا دم توڑ گیا

شکاریوں نے ختم ہوتی نسل کے تیندوے کو گولی مار کر ایکسیڈنٹ کی افواہ پھیلائی تھی۔

کی طرف سے

آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں گزشتہ روز دریا کے قریب زخمی ہونے والے تیندوا اسلام آباد میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

گزشتہ روز محکمہ جنگلی حیات نے تیندوے کو تشویشناک حالت میں مظفرآباد سے اسلام آباد پہنچایا تھا جہاں اس کی جان بچانے کے لیے آپریشن  کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران دم توڑ گیا۔

شکاریوں نے ختم ہوتی نسل کے تیندوے کو گولی مار کر ایکسیڈنٹ کی افواہ پھیلائی تھی۔

زخمی چیتا وادی نیلم ميں نوسیری کے مقام پر دریا کنارے پڑا ملا تھا جہاں مقامی افراد نے اسے باہر نکالا اور مرغیاں کھلانے کی کوشش کی مگر وہ کچھ کھا نہیں سکا۔

محکمہ وائلڈ لائف نے چيتے کو ابتدائی طبی امداد دی اور علاج کے لیے اسلام آباد پہنچایا۔

اسلام آباد میں ایکسرے کیا گیا تو پتہ چلا کہ تیندوے کو بارہ بور کا کارتوس لگا ہے، طبی ماہرین نے آپریشن کر کے نایاب جانور کی جان بچانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔

معالجین کے مطابق تیندوے کے جسم سے چھ چھرے ملے، ریڑھ کی ہڈی میں لگے دو چھروں کی وجہ سے تیندوے کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا تھا اور وہی اس کی موت کا سبب بن گئے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ، مریم نواز

لاہور: مریم نواز کا کہنا ہے کہ وزیرا عظم عمران خان اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ،  عمران خان اب تاریخ کے طور پر پڑھائے جائیں گے جو عوامی تاریخ کی بجائے سازش اور پلانز پر انحصار کرتے رہے۔

کی طرف سے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں مسلم لیگ ن  کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ  عمران خان کے الفاظ سے اپنے اور تحریک انصاف کے مستقبل کے حوالے سے ناکامی اور بد اعتمادی جھلک رہی تھی ، وزیرا عظم عمران خان اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ،  عمران خان اب تاریخ کے طور پر پڑھائے جائیں گے جو عوامی تاریخ کی بجائے سازش اور پلانز پر انحصار کرتے رہے ، عمران خان نا صرف شکست خوردہ بلکہ شکست کو تسلیم کیے ہوئے شخص نظر آئے ،  حکومت میں چار سال گزار   کرعمران خان رو کر فریاد کرتے نظر آئے ، جن مافیاز کی عمران خان شکایتیں کرتے ہیں وہ تو انکے دائیں بائیں کھڑے ہیں،  مافیاز دراصل عمران خان کا کچن چلاتے رہے ۔

 مریم نواز  نے مزید لکھا کہ  جو جھوٹے مقدمے شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کے خلاف بنائے گئے وہ اب اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں ،  اب عمران خان کی حقیقت پوری دنیا پر عیاں ہوچکی ہے ، عمران خان اب عدلیہ کو مورد الزام مت ٹھہرائیں ،  عمران خان کے پاس انتقام اور بدلے کے سوا کچھ نہیں ،  عمران خان کی دم توڑتی امیدیں بھی عوام کیلئے ایک امید ہے ۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

صدر اردوغان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پرصحافی گرفتار

ایک ترک عدالت نے معروف صحافی صدف كابس کو ملک کے صدر کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

کی طرف سے

سنیچر کو صدف کابس کو گرفتار کیا گیا اور ایک عدالت نے انھیں مقدمے سے قبل ہی جیل بھیجنے کا فیصلہ دیا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک شو میں ترک صدر طیب اردوغان کو ہدف بنایا۔ انھوں نے اپوزیشن سے جڑے ایک ٹی وی چینل کے لائیو شو کے دوران ایک محاورہ کہا تھا۔ صدف اپنے اوپر لگے الزامات کی تردید کرتی ہیں۔
ان پر عائد اس الزام کی سزا ایک سے چار سال قید تک ہوسکتی ہے۔
ٹیلی ون چینل پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک مشہور کہاوت ہے کہ سر پر تاج پہننے سے انسان سمجھدار ہوجاتا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ یہ سچ نہیں۔  
ان کا کہنا تھا کہ ’بھینسا محل میں داخل ہو تو وہ بادشاہ نہیں بن جاتا، بلکہ محل کا باڑا بن جاتا ہے۔
انھوں نے بعد میں ٹوئٹر پر بھی اپنا یہ بیان شیئر کیا۔
اردوغان کے چیف ترجمان فہریتن التن نے ان کے تبصرے کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا تھا۔ انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’نام نہاد صحافی کھلے عام ایک ٹی وی چینل پر ہمارے صدر کی توہین کر رہی ہے جس کا نفرت پھیلانے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔‘

عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں صدف نے صدر کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔
ٹیلی ون چینل کے مدیر مردان یانردگ نے صدف کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ایک محاورے کی وجہ سے رات کے دو بجے ان کی گرفتاری ناقابل قبول ہے۔‘
’اس اقدام سے صحافیوں، میڈیا اور معاشرے کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
اردوغان ترکی میں 11 سال وزیر اعظم رہے جس کے بعد وہ اگست 2014 میں ملک کے پہلے صدارتی انتخاب میں صدر منتخب ہوئے۔ یہ ملک میں ایک عزازی عہدہ ہوا کرتا تھا۔
ناقدین کو خاموش کرنے کے یہ اقدامات بیرون ملک بھی تشویش کا باعث بنے ہیں اور اس سے ترکی کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہوئے ہیں۔ یورپی یونین نے اس اتحاد میں ترکی کی شمولیت کو روک کر رکھا ہوا ہے۔
جب سے اردوغان صدر بنے ہیں ہزاروں لوگوں کو ان کے خلاف ہتک عزت کے الزامات پر سزائیں دی گئی ہیں۔

میڈیا کے مطابق سنہ 2020 کے دوران ترکی میں اس الزام پر 31 ہزار سے زیادہ تحقیقات ہوئی تھیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

سڈنی :  امیکروں کے بڑھتے وار، اسکولوں میں ہفتے میں دو بار کورونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ

سڈنی: آسٹریلیا کی ریاستوں نیوساؤتھ ویلز اور وکٹوریا کے تمام اسکولوں میں ہفتے میں دو بار کورونا ٹیسٹ کرانے کا اعلان کیا ہے۔

کی طرف سے

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق   آسٹریلیا نے اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر پر آسٹریلیا کی ریاستوں نیوساؤتھ ویلز اور وکٹوریا کے تمام اسکولوں میں  ہفتے میں دو بار کورونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کورونا کی نئی قسم اومیکرون بچوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

یہ فیصلہ حکومت نے طبی ماہرین کی رپورٹ  کے بعد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نیوساؤتھ ویلز اور وکٹوریا میں اومی کرون ویرینٹ کی وبا عروج پر ہے۔

رپورٹ میں تھا کہ نیوساؤتھ ویلز میں کورونا کے 20 ہزار 324 کیسز اور وکٹوریا میں 13 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ آسٹریلیا میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر 58 اموات ہوئیں جن میں نیوساؤتھ ویلز میں 34 اور 14 وکٹوریا میں ہوئیں۔

خیال رہے کہ فی الحال آسٹریلیا میں موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد اگلے ہفتے سے اسکول کھل جائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

کورونا کے وار:10 مزید تعلیمی ادارے سیل کرنے کے حوالے سے مراسلہ جاری

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی جانب سے تمام متاثرہ تعلیمی اداروں کو سیل کرنے کے حوالے سے مراسلے جاری کردیے گئے۔

کی طرف سے

تفصیلات کے مطابق  شہر اقتدار کے تعلیمی ادارے کورونا کی زد میں آگئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی)  کی ہدایت پر ڈی ایچ او کی جانب سے تعلیمی اداروں میں ٹیسٹنگ جاری ہے، ڈی ایچ او کی جانب سے مزید کیسز رپورٹ ہونے پر مراسلہ جاری کردیا گیا۔ 10 مزید تعلیمی ادارے سیل کرنے کے حوالے سے ڈی سی آفس کو مراسلہ بھیجا گیا۔

خیال رہے کہ  گزشتہ 5 روز میں 40 کے قریب تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی جانب سے تمام متاثرہ تعلیمی اداروں کو سیل کرنے کے حوالے سے مراسلے جاری کیےگئے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

بٹ کوائن کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

2021 بٹ کوائن کے لیے بہت خاص سال ثابت ہوا جس میں اس نے 30، 40 اور 50 ہزار کے بعد اب 60 ہزار ڈالرز کی حد کو بھی عبور کیا۔

کی طرف سے

ڈیجیٹل کرنسی کے غبارے کی ہوا نکلنا شروع ہوگئی ہے اور اس کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں کمی آئی ہے۔

بٹ کوائن کی قیمت میں 22 جنوری کو 36 ہزار ڈالرز سے بھی نیچے آگئی اور اس کی مارکیٹ ویلیو میں سے 600 ارب ڈالرز سے زیادہ کمی آئی۔

اس وقت بٹ کوائن ایک یونٹ لگ بھگ 35 ہزار ڈالرز یعنی 63 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد میں فروخت ہورہا ہے جو جولائی 2021 کے بعد اب تک کی سب سے کم قیمت ہے۔

نومبر 2021 میں بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں اب تک 45 فیصد کمی آئی ہے جبکہ دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے۔

بٹ کوائن کے ساتھ ساتھ دیگر کرنسیوں جیسے ایتھر سمیت دیگر میں آنے والی کمی سے کرپٹو مارکیٹ کو ایک ٹریلین سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

بیسپوک انویسٹمنٹ گروپ نے کرپٹو پلیٹ فارم ایف آر این ٹی فنانشنل کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو اسٹیفن اولیٹی نے بتایا کہ کرپٹو مارکیٹ کا ردعمل اسی طرح کا ہے جو خطرات والے اثاثوں کا عالمی سطح پر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق متوقع خطرات کو مدنظر رکھا جائے تو بٹ کوائن کی قیمت میں ایک سال میں 60 فیصد تبدیلی آئی جبکہ سونے کی قیمتوں میں یہ شرح 14 فیصد تھی، اس سے عندیہ ملتا ہے کہ بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں محفوظ کی بجائے خطرے والے اثاثے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کرنسیوں کی قدر میں مزید کمی دیکھنے میں آسکتی ہے کم از کم مختصر مدت کے لیے۔

بٹ کوائن کی قیمتوں میں اس طرح کا اتار چڑھاؤ نیا نہیں، 2017 میں بھی ایسا دیکھنے میں آیا تھا۔

2017 میں اس کرنسی کی قدر میں 900 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا اور وہ 20 ہزار ڈالرز کے قریب پہنچ گئی تھی، مگر اس موقع پر مالیاتی ماہرین نے انتباہ کیا تھا کہ یہ قیمت بہت تیزی سے نیچے جاسکتی ہے۔

پھر ایسا ہوا بھی اور فروری 2018 میں قیمت 7 ہزار ڈالرز سے بھی نیچے چلی گئی۔

اسی طرح 2021 میں بھی اس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد اچانک تیزی سے کمی آئی ہے اور وہ 30 ہزار ڈالرز کے قریب پہنچ گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

کورونا کے وار مزید تیز ، سروسز ہسپتال لاہور کے15 ڈاکٹر کورونا کا شکار

لاہور: ملک میں وائرس کا پھیلاؤ تیرہ فیصد ہوگیا۔

کی طرف سے

تفصیلات کے مطابق ملک میں کورونا سنگین شکل اختیار کرنےلگا ہے۔ چوبیس گھنٹے میں  سات ہزار586 افراد میں  وائرس کی تشخیص ہوئی۔دوسروں کی زندگیاں  بچانے والے بھی  کورونا کے نشانے پر آگئے۔ سروسز ہسپتال لاہور کے 15 ڈاکٹروں  کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آگئی۔

ملک  میں  کورونا  کے مثبت  کیسز کی شرح تیرہ فیصد  تک پہنچ گئی ہے۔ کراچی میں  وائرس کا پھیلاؤ 42 اعشاریہ 31 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔  حیدرآباد میں  مثبت کیسز کی شرح  سولہ فیصد رہی۔

پنجاب میں بھی وبا کے حملے  کم نہیں۔ صوبے میں کورونا  پازیٹو آنے کا تناسب نواعشاریہ دو فیصد ہے جبکہ لاہور یہ شرح چودہ اعشاریہ چار فیصد جبکہ راولپنڈی میں  انیس اعشاریہ آٹھ فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

ادھرپنجاب میں اومی کرون کے نئے 93 کیس  سامنے آگئے ہیں۔ لاہور میں مزید 84 افراد میں کورونا کے نئے ویرینٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔موذی وائرس  مزید بیس زندگیاں نگل گیاہے۔ ملک میں فعال کیسز70 ہزار263 ہوگئےہیں۔

موذی وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلیے  اسلام آباد انتظامیہ سنجیدہ نظر نہیں آرہی۔شہر  کے مختلف سیکٹرز کی 24 گلیاں سیل کرنے کا نوٹیفکیشن  جاری کیا گیا مگر اس پر عملدرآمد  کرانا بھول گئی۔ 

کراچی  کےضلع وسطی کے 4ٹاؤنز میں مائیکرواسمارٹ لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔105 گھروں میں پانچ فروری تک  پابندیاں برقراررہیں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll