ذرائع نے بتایا کہ گورنر سندھ سے مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی ملاقات کے بعد ایم کیو ایم اور پی ایس پی میں برف پگھلی ہے، جس کے بعد بیک ڈور رابطوں کی اطلاعات ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فاروق ستار بھی انٹرا پارٹی الیکشن سے دستبراد ہونے کے اشارے دے رہے ہیں۔
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان اورپاک سرزمین پارٹی کا بڑے سیاسی سیٹپ کا امکان متوقع ہے۔


گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی کاوشوں کے بعد ایم کیو ایم پاکستان، پاک سرزمین پارٹی اور فاروق ستار کے درمیان سیاسی اتحاد کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ایم کیو ایم کے سیاسی دھڑوں کو ایک کرنے کے لئے بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے کیونکہ دونوں جماعتوں کی جانب سے مشترکہ طور پر گورنر کی کاوشوں کا مثبت جواب دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے مستقبل میں ساتھ چلنے پر بات چیت کرنے اور ماضی کو بھولا کر ساتھ سیاست کرنے پر اتفاق طے ہوا ہے، اس کے علاوہ جلد دونوں جماعتوں کے قائد کی ملاقات کا امکان بھی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کی سیاست میں جلد بڑے بریک تھرو کا امکان ہے تاہم آنے والے 8 سے 10 دنوں میں اہم ملاقاتیں ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، جس میں مستقبل میں ساتھ چلنے اور مشترکہ جدوجہد کے حوالے سے دونوں جماعتوں میں معاملات طے کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی کی ایم کیو ایم کی سینئر قیادت سے مشاورت جاری ہے جبکہ دوسری جانب پی ایس پی کی اعلی قیادت بھی اپنے رہنماوں اور کارکنان کو اعتماد میں لینا شروع کردیا۔
ذرائع نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل اتحاد ہونے کا امکان ہے، مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کارکن کی حیثیت سے ایم کیو ایم کی واپسی کا امکان ہے لیکن اس حوالے سے زرائع نے بتایا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری بھی تمام سابقہ رہنماؤں کو واپس ایم کیو ایم میں لانے کے لئے متحرک ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے درمیان بیک ڈور رابطے لانڈھی کے ضمنی الیکشن کے بعد سے شروع ہوگئے تھے لیکن ایم کیو ایم کے چند سینئر رہنما اس کے حق میں نہیں تھے تاہم اس کے بعد پی آئی بی اور شاہ فیصل کالونی میں بدترین شکست کے بعد دوبارہ رابطوں کا سلسلہ شروع ہوا، امکان ہے جلد ایم کیو ایم اور پی ایس پی کی جانب سے کوئی اعلان سامنے آئے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کے ذریعے فاروق ستار سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور ان کو بھی ساتھ لے کر چلنے پر بات جاری ہے تاہم تینوں فریقین کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کی قیادت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے پارٹی کا نام ایم کیو ایم پاکستان انتخابی نشان پتنگ ہی رہے گا۔
اس حوالےسےآنے والے دنوں میں مزید پیش رفت ہوسکتی ہے اور ایم کیو ایم مصطفی کمال،انیس قائم خانی، ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر رہنماؤں کو باقار طریقے سے واپس لایا جا سکتا ہے۔
وسیم اختر سے جب پریس کانفرنس سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ تمام لوگ ایم کیو ایم میں کارکن کی حیثیت سے واپس آسکے ہیں جیسے ڈاکٹر صغیر، سلیم تاجک سمیت دیگر لوگ واپس آئے، کنوینر خالد مقبول صدیقی نے واضح پیغام دیا ہے کہ تمام لوگ واپس آسکتے ہیں۔

ہانگ کانگ سپر سکسز: پاکستان نے بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی
- a day ago

گلوکار جبران راحیل کی عالمی سطح پر کامیابیاں، بطور پلے بیک سنگر بھی مداحوں کے دل جیت لیے
- 4 days ago

نوشکی: مسلح افرادکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی
- 4 days ago

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- 5 days ago

قومی اسمبلی میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے حق میں قرارداد منظور
- 4 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 2 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 2 days ago

سرگودھا ریجن پولیس کے 8 شہداء کے ورثاء میں پلاٹوں کے کاغذات تقسیم
- 18 hours ago

لام فیشن ویک تمام ترجلوے اور رنگینیاں بکھیرتا اختتام پذیر
- 4 days ago

اسپین: دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 68 افراد ہلاک
- 2 days ago

کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری
- a day ago

پاکستان، سنگاپور کا مختلف شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار
- 20 hours ago






