Advertisement

 امریکی افواج نے ایران کے خارگ جزیرے اور فوجی اہداف پر تاریخ کے طاقتور ترین حملے کیے،ٹرمپ

آبنائے ہرمز میں امریکی نیوی جلد جہازوں کو تحفظ دے گی، ایران میں امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مختلف ہوسکتے ہیں، جب تک ضرورت ہوئی جنگ جاری رہے گی،ٹرمپ

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 months ago پر Mar 14th 2026, 3:09 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 امریکی افواج نے ایران کے خارگ جزیرے اور فوجی اہداف پر تاریخ کے طاقتور ترین حملے کیے،ٹرمپ

واشنگٹن ڈی سی:  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج امریکی افواج نے ایران کے خارگ جزیرے اور فوجی اہداف پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین حملے کیے۔

تفصیلات کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے تاج زیور، خارگ جزیرہ میں ہر فوجی ہدف کو مکمل طورپر مٹا دیا گیا ہے، ہمارے ہتھیار سب سے زیادہ طاقتور اور نفیس ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر  انہوں نے جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنےکا حکم نہیں دیا  تاہم صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی میں مداخلت کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اپنے پہلے دور صدارت میں اور موجودہ دور میں انہوں نے امریکی فوج کو دنیا کی سب سے طاقتور اور مؤثر قوت بنایا ہے اور  ایران کے پاس کوئی ایسی صلاحیت نہیں کہ وہ امریکا کی حملوں کا دفاع کر سکے۔

بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا آبنائے ہرمز میں امریکی نیوی جلد جہازوں کو تحفظ دے گی، ایران میں امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مختلف ہوسکتے ہیں، جب تک ضرورت ہوئی جنگ جاری رہے گی۔

جاری بیان میں امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی فوج اور اس دہشت گرد حکومت میں شامل دیگر تمام افراد کیلئے عقلمندی ہوگی کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں،انہوں نے زور دیا کہ ایران کبھی بھی نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکے گا اور نہ ہی ایران امریکا، مشرق وسطیٰ یا دنیا کے لیے کوئی خطرہ بن سکے گا۔

یاد رہے کہ خارگ نامی جزیرہ ایران کے ساحل سے 25 کلومیٹر دور واقع ہے، جہاں سے ایران کا 90 فیصد تیل عالمی منڈی میں جاتا ہے۔

Advertisement
Advertisement