جی این این سوشل

جی این این میں ویڈیو ڈیسک آپ کو روزانہ کی تازہ ترین سرخیاں ، شوز ، پروگرام ، ایونٹس اور بہت کچھ فراہم کرے گا جب آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

کھیل

محسن نقوی نے ویمنز ٹیم کی نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کر دیا

پی سی بی چیئرمین نے تشکیل نو کرتے ہوئے اراکین کی تعداد بڑھادی

Published by Nouman Haider

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے ویمنز ٹیم کی نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کر دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی خواتین کی سلیکشن کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے اسے 7 ارکان تک بڑھا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ویسٹ انڈیز ویمنز کے خلاف پاکستان ویمن ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی ہے۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو ری اسٹرکچر کیا ہے، قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی 7 ارکان پر مشتمل ہوگی، نئی چیز یہ ہے کہ اب سلیکشن کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے جاری اعلامیے کے مطابق اسماویہ اقبال اور مرینہ اقبال کے علاوہ مینز سلیکشن کمیٹی کے اراکان سابق کرکٹر عبدالرزاق، اسد شفیق اور بتول فاطمہ سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوں گی، اسی طرح ہیڈکوچ اور کپتان بھی اسی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
محسن نقوی  نے بتایا کہ وہاب ریاض،محمد یوسف،عبدالرزاق اور اسد شفیق کو سلیکشن کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے، کپتان اور ہیڈ کوچ بھی سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوں گے، ڈیٹا اینالسٹ کو بھی سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے، محمد یوسف انڈر 19 کے بھی ہیڈ کوچ رہیں گے۔
نئی سلیکشن کمیٹی کا فوری کام انگلینڈ کے آئندہ دورے کے لیے پاکستان ویمنز ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا، جہاں وہ 11 سے 29 مئی تک تین ٹی 20 اور آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ 2022-25 کے تین میچز کھیلے گی۔
ویسٹ انڈیز سے حالیہ0-3 کی شکست کے باوجود، پاکستان اس وقت 10 ٹیموں پر مشتمل آئی سی سی ویمن چیمپئن شپ 2022-25 میں پانچویں پوزیشن پر ہے۔ اس چیمپئن شپ کی ٹاپ پانچ ٹیمیں، میزبان بھارت کے ساتھ، آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کے لیے براہ راست کوالیفائی کریں گی۔ باقی ٹیمیں خواتین کے کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

عدالت نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت 6 مئی تک معطل رہے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ

Published by Nouman Haider

پر شائع ہوا

کی طرف سے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے نوٹیفکیشن معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت 6 مئی تک معطل رہے گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں پنجاب میں 120 گرام کی روٹی25 روپے میں ہے۔ ضلعی حکومت کے نمائندے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ وہ دوسری صوبائی حکومت ہے، آٹا یہاں مہنگا ہے اور اسلام آباد میں کرائے بھی زیادہ ہیں، متعلقہ افسر موجود نہیں، پیراوائز کمنٹس دے دیتے ہیں، مناسب وقت دے دیں۔ 

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ تندور والوں سے پوچھا آٹا کتنے کا آرہا ہے یا لوگوں کو خوش کرنے کو آرڈر جاری کر دیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 6 مئی تک متلوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر فریقین تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرائیں۔

یاد رہے نان بائی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کو چیلنج کیا تھا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کو بحال

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

Published by Nouman Haider

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سپریم کورٹ نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کو بحال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے بلوچستان کے حلقہ پی بی 51 چمن کے 12 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا الیکشن کمیشن کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے تمام امیدواروں کی رضامندی سے معاملہ دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام امیدواروں کو سن کر 10 روز میں فیصلہ کرے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے مخالف امیدوار اصغر خان اچکزئی کی درخواست پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا، الیکشن کمیشن نے دوبارہ پولنگ کا حکم دیتے ہوئے اسپیکر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما عبدالخاق اچکزئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کس ضابطے کے تحت الیکشن کمیشن نے 12 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ الیکشن کا حکم دیا، الیکشن کمیشن نے نہ تو انکوائری کی نہ ہی کوئی اصول دیکھا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے 12 پولنگ اسٹیشنز کو دیکھا مگر دیگر کو نظر انداز کر دیا۔

جس پر ڈی جی لا الیکشن کمیشن بولے کہ جن 12 پولنگ اسٹیشنز پر زیادہ ٹرن آوٹ کی درخواست کی گئی صرف انہی کو دیکھا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تو پورے حلقے کی دوبارہ انکوائری کروانا چاہیے تھی، اگر الیکشن کمیشن اپنا کام کر لیتا تو لوگوں کو عدالت نہ آنا پڑتا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll