غیر ملکی میڈیا کے مطابق گلیشیئر ٹوٹنے سے نیپال میں تباہ کن سیلاب آیا جس نے بڑے پیمانے پر انفرا اسٹرکچر سمیت انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا

ویب ڈیسک: نیپال میں حالیہ بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور ہائیڈرو پاور منصوبے کی ٹنل سے 9 روز بعد 2 افرادکو زندہ نکال لیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گلیشیئر ٹوٹنے سے نیپال میں تباہ کن سیلاب آیا جس نے بڑے پیمانے پر انفرا اسٹرکچر سمیت انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا۔
نیپال میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد سے ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس دوران ہائیڈرو پاور منصوبے کی ٹنل سے 2 افرادکو زندہ نکال لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کو 9 روز بعد ٹنل سے زندہ نکال کر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے نیپالی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ہائیڈرو پاور منصوبے کی ترشولی 3 اے سرنگ میں مزید افراد کے زندہ ہونے کا امکان ہے، تباہ کن سیلاب کے باعث ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں کم از کم 900 افراد پھنس گئے تھے۔
خبر ایجنسی کے مطابق نیپال میں تباہ کن سیلاب سے اب تک 1 ہزار 252 افراد ہلاک اور 4 ہزار 200 سے زائد لاپتہ ہیں جبکہ تبت میں سیلاب سے 21 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 541 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
- a day ago

ڈی آئی خان: چیک پوسٹ کے قریب دھماکا،11 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- 3 days ago

روس میں تربیتی پرواز کے دوران Tu-95 بمبار طیارہ گر کر تباہ،عملے کے 6 ارکان ہلاک
- 5 hours ago

پاک بحریہ کی بحیرہ عرب میں کارروائی،2,800 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط
- 3 days ago

فیفا آسیان کپ: پاکستان کا فلپائن کیخلاف میچ 2-2 سے برابر، اپنا پہلا پوائنٹ حاصل کرلیا
- 5 hours ago
ملک میں سونے کی قیمتوں میں حیرت انگیزکمی
- a day ago

امریکہ افغانستان جنگی کمیشن کی علاقائی امن کے لیے پاکستان کی خدمات کی تعریف
- a day ago

آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس، مرکزی ملزم گرفتار
- a day ago

ایشین گیمز ہاکی:ملائیشیا نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے میں ہرا دیا
- 3 days ago

آصف اقبال کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، فنی خدمات کو خراجِ تحسین
- a day ago

ممتاز عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان کی معاشی اصلاحات کی صورتحال پر اعتماد کا اظہار
- 5 hours ago

خیبرپختونخوا میں پولیو کا چوتھا کیس سامنے آگیا
- 10 hours ago




