وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کو جلد از جلد شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ
وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کی عمارت کو ہنگامی بنیادوں پر شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔


وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انرجی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیر مملکت پٹرولیم مصدق ملک اور متعلقہ اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز بذریعہ ویڈیو لنگ اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اور بتایا گیا کہ ملک میں ایندھن سے چلنے والے پاور ہاؤسز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور 11 کے وی کے 2000 فیڈرز پر شمسی توانائی کی پیداوار کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
اجلاس میں ملک بھر میں سرکاری عمارات کی شمسی توانائی پر منتقلی کی تجویز کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور بتایا گیا کہ اگلے 10 سالوں میں سرکاری عمارتوں پر 1000 میگاواٹ تک کے شمسی توانائی پیدا کرنے کے پلانٹس لگائے جائیں گے۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ملک میں ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن بھی کی جائے گی، حکومتی فنڈنگ سے بلوچستان میں ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے، جس کے ذریعے سے صوبے میں 30 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا، اور اس منصوبے پر 300 بلین روپے کی لاگت آئے گی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ شہریوں کو شمسی توانائی پیدا کرنے کے پلانٹس، جن میں نیٹ میٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہو، مہیا کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
اجلاس میں سولر اور گرین انرجی پر منتقلی کے حوالے سے اہم اعلانات کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یکم اگست کو قومی سولر انرجی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا، پالیسی کا نفاذ مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ جب کہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہنگامی بنیادوں پر وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کی عمارات شمسی توانائی پر منتقل ہوجائیں گی، اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عوام کو سستی اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور کوشش ہے کہ ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شمسی توانائی بجلی پیدا کرنے کا ایک صاف،سستا اور ماحول دوست ذریعہ ہے، اور اس سے پیدا کی گئی بجلی سستی ہوگی، عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔
شہبازشریف نے کہا کہ ہم پاکستان کی پہلی جامع سولر انرجی پالیسی سامنے لا رہے ہیں، پالیسی کا نفاذ صوبوں کی باہمی مشاورت سے ہوگا۔
وزیراعظم نے سولر انرجی ٹاسک فورس کی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام صوبوں کو ان تجاویز سے آگاہ کر کے ان کی رائے لی جائے، متبادل توانائی کے تمام منصوبوں میں صوبوں کی ہم آہنگی ہو۔

پاکیتان میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- ایک دن قبل
ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائیگا، سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوگیا
- ایک دن قبل
’میرے ڈھولے دا دنیا‘ میوزک ویڈیو ریلیز
- 8 گھنٹے قبل
ہنگو: فورسز کے آپریشن میں 7 خارجی دہشتگرد ہلاک، کیپٹن شہید
- 10 گھنٹے قبل

تاریخی اسٹیج ڈرامہ 'جنم جنم کی میلی چادر' نئے انداز میں پیش
- ایک دن قبل
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں ملوث ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا
- 9 گھنٹے قبل

سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں دو مختلف کارروائیو ں میں 10خوارج کو ہلاک کردیا
- ایک دن قبل

نیپرا نے ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی کردی
- ایک دن قبل
ماسٹرز ہاکی ورلڈکپ: پاکستان ویٹرنز ٹیم پہلا میچ ہار گئی
- 10 گھنٹے قبل
اسکول میں فائرنگ سے ٹیچر سمیت 6 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کرلی
- ایک دن قبل

غازی آباد تھانے میں مبینہ زیادتی کیس، تفتیش میں اہم انکشافات
- 6 گھنٹے قبل
پاک–سعودیہ–ترکیہ دفاعی معاہدہ امتِ مسلمہ کی وحدت و مشترکہ سلامتی کو مضبوط کرے گا: اشرفی
- 6 گھنٹے قبل




