Advertisement
پاکستان

آڈیو لیکس کمیشن کیس،سپریم کورٹ نے حکومت کے ججز پر اعتراضات کو مسترد کر دیا

عدالت کے جج صاحبان پر آڈیو لیکس کمیشن کے کیس میں اعتراضات کو عدلیہ پر حملہ ہے،فیصلہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Sep 8th 2023, 5:59 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
آڈیو لیکس کمیشن کیس،سپریم کورٹ نے حکومت کے ججز پر اعتراضات کو مسترد کر دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ڈی ایم کی سابق حکومت کی جانب سے عدالت کے جج صاحبان پر آڈیو لیکس کمیشن کے کیس میں اعتراضات کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا ہے۔

شہباز شریف حکومت کی جانب سے بینچ میں شامل تین ججوں پر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کئے گئے فیصلے کا مختصر حصہ سنایا ہے۔ عدالت کا فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پڑھ کر سنایا۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ساس، خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے، جسٹس مظاہر نقوی، عابد زبیری اور پرویز الٰہی کی مبینہ آڈیو لیکس پر حکومت نے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔

حکومت نے 9 مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں یہ انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا جس میں اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل تھے تاہم عابد زبیری نے اس کمیشن کو چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ تشکیل تھا، اس بنچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس حسن اظہر اور جسٹس شاہد وحید شامل تھے۔ عدالتی بنچ نے اس کیس کی دو سماعتیں کیں اور آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔

شہباز حکومت نے چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر اعتراضات کیے تھے۔ حکومت نے مفادات کے ٹکرائو پر تینوں ججز کی بینچ سے علیحدگی کے لیے متفرق درخواست دائر کی تھی

عدالت نے حکومت کی جانب سے بنچ پر اعتراض کی درخواست پر سماعت کے بعد 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو تین ماہ بعد آج جسٹس اعجاز الاحسن نے سنایا۔

سپریم کورٹ نے تین ججز پر حکومتی اعتراض کی متفرق درخواست خارج کردی اور عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے سابقہ حکومت کے بنچ پر اعتراضات کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔

جسٹس اعجاز نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ججز پر اعتراض عدالت پر حملے کے مترادف ہے۔

Advertisement