Advertisement
پاکستان

بھیک مانگنا اب ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہےاس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے،خواجہ آصف

بھیک منگوانے کے لیے اب باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں،ٹھیکیدار بچوں، عورتوں اور جعلی معزوروں کو بھرتی کرکےکروڑوں روپے کما رہے ہیں،خواجہ آصف

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 months ago پر Feb 9th 2026, 2:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بھیک مانگنا اب ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہےاس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے،خواجہ آصف

سیالکوٹ:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں بھیک مانگنا اب ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، جس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے

تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا بھیک منگوانے کے لیے اب باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں،ٹھیکیدار بچوں، عورتوں اور جعلی معزوروں کو بھرتی کرکےکروڑوں روپے کما رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ بڑی تعداد میں بھیک مانگنے والوں کو خلیجی ممالک بھیجا جا رہا ہے، جس کے باعث متعلقہ ممالک نے پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے، انہوں نے کہا کہ بھیک مانگنے والے نیٹ ورکس کروڑوں روپے کماتے ہیں اور اس مقصد کے لیے بچوں، خواتین اور جعلی معذور افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنےکام میں ائیرپورٹس پر مختلف محکموں کا عملہ حصہ دارہے اور مال بنا رہا ہے، سیالکوٹ میں یہ لوگ زیادہ تر جنوبی پنجاب سےآکر ہوٹلوں میں رہ کر دھندہ کرتے ہیں،تاہم ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں کے نتیجے میں بھیک مانگنے والوں کے خلاف نمایاں کمی آئی ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھیک مانگنے والوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے اور اس نیٹ ورک کے ساتھ دیگر جرائم بھی منسلک ہیں، جن کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

Advertisement
Advertisement