تہران میں چار فریقی اجلاس، علاقائی اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی پر زور


تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں علاقائی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو متحد ہوکر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
ایرانی صدارتی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق، مسعود پزشکیان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اہم اور بااثر اسلامی ممالک کے نمائندوں کی اس اجلاس میں شرکت علاقائی اتحاد اور یکجہتی کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔
اجلاس کے آغاز پر ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندے علاقائی تعاون، ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت اور اس کے اثرات سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے علاقائی سلامتی اور استحکام سے متعلق چار فریقی اجلاس کے آغاز کی ویڈیو بھی جاری کی، جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو ایرانی صدر، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سکیورٹی چیف محسن رضائی کے ساتھ بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔
Start of the quadrilateral meeting of Iran, Pakistan, Turkey, and Saudi Arabia on regional security and stability, hosted by Tehran. https://t.co/VUVl8s5Gbh
— IRIB (Islamic Republic of Iran Broadcasting) (@iribnews_irib) October 26, 2026
اس سے قبل پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی تھی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کے دورے پر ہیں، تاہم دورے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔
اجلاس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے بھی شرکت کی۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے بھی اجلاس کی تصاویر جاری کیں۔
بعدازاں ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ چاروں ممالک نے تہران میں ہونے والی پہلی ملاقات کے بعد مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ نشریاتی ادارے کے مطابق، فریقین نے علاقائی امن و سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
📸 Four-way meeting between Iran, Pakistan, Turkey, and Saudi Arabia gets underway in Tehran. Follow: https://t.co/oa9JV4ikYQ https://t.co/X0V8WtGibR
— Press TV 🔻 (@PressTV) October 26, 2026
علاقائی سلامتی پر زور
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ایران کی اعلیٰ ترین سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے کہا کہ یہ دورہ مغربی ایشیا میں علاقائی ممالک پر انحصار کرتے ہوئے سلامتی کے نظام کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ تینوں ممالک کے حکام کے ساتھ اجلاس میں خطے کو درپیش اہم ترین مسائل پر غور کیا جائے گا، جن میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں اور فلسطین و لبنان کی صورتِ حال شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست معاملہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتائج اور پورے خطے پر اس کے اثرات ہوں گے۔
ارنا کے مطابق، اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران میں ہونے والا یہ اجلاس خطے میں ’’مقامی سطح پر تشکیل پانے والے سلامتی کے نظام‘‘ کی جانب مزید اقدامات کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، جس پر ایران کئی دہائیوں سے زور دیتا آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی کا قیام خطے کے ممالک کے سلامتی سے متعلق تحفظات کو مدنظر رکھنے کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے بقول، گزشتہ دو برسوں، بالخصوص گزشتہ آٹھ ماہ کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ پائیدار اور قابلِ اعتماد سلامتی صرف علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ دے کر ہی ممکن ہے۔
مکہ دفاعی اتحاد کا کردار
سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں دورے کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ مکہ دفاعی اتحاد کے ارکان کی جانب سے جاری بحران میں شامل فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارتی حل کو فروغ دینے اور قطر و پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔
رائد کریملی کے مطابق، یہ دورہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ اور اس مقصد کے حصول کے لیے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مکہ دفاعی اتحاد کے ارکان کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حوثیوں کے حملوں میں شدت آئی ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان بیانات میں بھی تلخی بڑھی ہے۔
پیر کو ہونے والے ان مذاکرات کو سعودی عرب کے تنازع میں مزید گہرائی سے شامل ہونے کے بعد ایران اور مکہ دفاعی اتحاد کے تمام ارکان کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلے رابطے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اگست میں دستخط کیے گئے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ ہفتے بھی ایران کے دورے پر گئے تھے۔ اس دورے کے دوران ایرانی قیادت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے امریکا کو پہل کرنا ہوگی اور تہران کی جانب سے پیش کردہ سات نکاتی تجویز قبول کرنا نئے مذاکرات کے آغاز کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق، اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ چار فریقی اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ ہفتے دورۂ تہران کے دوران پیش کی گئی تھی، جس کا ایران نے مثبت انداز میں جائزہ لیا اور اجلاس پیر کو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع
فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں کی لہر کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری تھے۔
اپریل میں ہونے والی جنگ بندی سے شدید بمباری کے ابتدائی مرحلے کا خاتمہ ہوا، تاہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اس گزرگاہ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو اکثر نشانہ بناتا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔
بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں، خصوصاً جون میں ہونے والے اس معاہدے کے خاتمے کے بعد جس میں مستقل تصفیے کی جانب پیش رفت کا لائحۂ عمل طے کیا گیا تھا۔
جنگ کا دائرہ اب خطے کے دیگر حصوں تک بھی پھیل چکا ہے، جہاں یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی بھی جاری ہے۔
📸 Four-way meeting between Iran, Pakistan, Turkey, and Saudi Arabia gets underway in Tehran. Follow: https://t.co/oa9JV4ikYQ https://t.co/X0V8WtGibR
— Press TV 🔻 (@PressTV) October 26, 2026

لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک
- 2 دن قبل

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا
- 2 دن قبل

آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور
- 2 دن قبل

پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم
- 2 دن قبل

شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا
- 23 منٹ قبل

پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل
- 2 دن قبل

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- 20 منٹ قبل

بھارتی سکیورٹی فورس نے سرکریک سے 4 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتارکرلیا
- 3 گھنٹے قبل

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئے
- 6 گھنٹے قبل

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود میں اضافہ
- 6 گھنٹے قبل

نئے صوبوں کا قیام اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، ابراہیم حسن مراد
- 3 دن قبل

نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی
- 2 دن قبل





