وزیراعظم عمران خان نے کراچی سرکلر ریلوے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔اس منصوبے پر 20ارب 70کروڑ روپے لاگت آئے گی۔


تفصیلات کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی معیشت کے حوالے سےاہم شہرہے، ترقی یافتہ ممالک کی شرح نمو میں ایک شہر ان کی قیادت کرتا ہے، انگلینڈ میں لندن، امریکا میں نیو یارک اور پاکستان کے لیے کراچی وہ اہم شہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں 1970میں کیا تھا،سب جانتے ہیں،80کی دہائی میں جب کراچی ٹیک آف کرنے لگا تھا تو اس میں انتشار پیدا ہوگیا، کراچی کی اہمیت کا پوری طرح اندازہ نہیں لگایا گیا ، کسی بھی شہر کیلئے اس کا ٹرانسپورٹ نظام اہم ہوتاہے، کراچی کےسی آرسےپوراملک فائدہ اٹھاسکےگا۔ کے سی آر، گرین لائن کراچی کے لیے بہت بڑا قدم ہے اور جس تیزی سے کراچی پھیل رہا ہے، ہمیں مزید کام بھی کرنا ہوگا۔
ان کاکہنا تھا کہ کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے، واپڈا چیئرمین نے بتایا ہے کہ 2 سالوں میں کراچی کو کے 4 کے ذریعے پانی پہنچادیا جائے گا ۔ بنڈل جزیروں کا سب سے بڑا فائدہ باہر سے سرمایہ کاری کا آنا ہے، اس کا سارا فائدہ سندھ کو ہے اور ہم اس پر مزید بات بھی کریں گے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں گزشتہ سال سیلاب سے جو مسئلے آئے تھے، خوشی ہے کہ ان پر کام کا آغاز ہوگیا ہے، 3 اہم نالوں کا کام بھی ہوگیا ہے۔سیاسی اختلافات کےباوجود کراچی کے مسائل کے حل کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل کر چلنا ہوگا۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، گورنر سندھ عمران اسمعٰیل، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی اور وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
گزشتہ ہفتے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے کراچی میں ٹرانسپورٹ مسائل کے حل کے لیے کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔
وفاقی حکومت کی سوچ کے مطابق سرکلر ریلوے کی نہ صرف بحالی کی جارہی بلکہ اسے توسیع اور جدید بھی بنایا جارہا ہے۔ جدید سرکلر ریلوے کے تیس اسٹیشن، رہائشی، صنعتی اور دفاتر کے علاقوں کو منسلک کریں گے۔ اس منصوبے سے نہ صرف کراچی میں گاڑیوں کا بہاؤکم ہوگا بلکہ مسافروں کو سہولت بھی ملے گی۔ بجلی پر چلنے والی ٹرینیں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں جس سے آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے پر کوئی پھاٹک نہیں بنایا جائے گا جس کے باعث ٹرینیں اسی کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی جبکہ ہر گاڑی میں 814 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔
کے سی آر ٹریک کی لمبائی43 کلومیٹر ہو گی اور33 اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبہ اٹھارہ سے چوبیس ماہ میں مکمل ہو گا، سرکلر ریلوے دو ٹریکس پر چلے گی، ایک ٹریک سٹی اسٹیشن سے شہرکاچکرلگا کر کینٹ اسٹیشن، دوسرا سٹی اسٹیشن سے دھابیجی جائے گا۔سرکلر ٹرین سٹی اسٹیشن سے چلے گی اور سائٹ، گلشن اقبال، گلستان جوہر سے ہوتی ہوئی واپس سٹی اسٹیشن پہنچے گی۔ راستے میں ٹرین کے 30 اسٹاپ ہوں گے۔ ٹرین کے راستے میں کئی انڈر پاسز بھی بنائے جائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 21 سال پہلے بند ہو جانے والے ماس ٹرانسپورٹ منصوبے کو پاکستان ریلویز کی جانب سے دوبارہ بحال کرنے کی اہم کاوش ہے ۔
واضح رہے کہ کے سی آر کو 1964 میں شروع کیا گیا تھا جو کراچی کے ڈرگ روڈ سٹیشن سے شروع ہوکر وسط شہر تک تھا۔ بعد میں پاکستان ریلویز نے اسے کئی سال تک گھاٹے میں چلایا اور بڑے معاشی نقصان کے بعد آخرکار 1999 میں پاکستان ریلویز کے حکام نے اس کو مکمل طور پر بند کردیا تھا۔
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 4 گھنٹے قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 2 دن قبل

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 2 دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- ایک دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- ایک دن قبل
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- ایک دن قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 2 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- ایک دن قبل
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- ایک دن قبل

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 2 دن قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- ایک دن قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- ایک دن قبل
