جی این این سوشل

ٹیکنالوجی

پاکستان میں فائیو جی سروسز جلد لانچ ہو جائیں گی، وزیر مملکت برائے آئی ٹی

وزیراعظم کی سربراہی میں کمیشن آئی ٹی کے شعبے کی ترقی اور فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے گا، شیزہ فاطمہ

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان میں  فائیو جی سروسز جلد لانچ ہو جائیں گی، وزیر مملکت برائے آئی ٹی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام شیزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ نیشنل ڈیجیٹل فریم ورک کے تحت قانون سازی کی طرف جار ہے ہیں ، وزیراعظم کی سربراہی میں کمیشن آئی ٹی کے شعبے کی ترقی اور فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے گا۔

ہواوے پاکستان ہیڈکوارٹرز میں عالمی یوم ٹیلی کام کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت شیزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق حکومت ترجیح بنیادوں پر تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر آئی ٹی کے فروغ کے لئے کام کررہی ہے ۔ حکومت کا وژن یہ ہے کہ ملک کے کونے کونے میں انٹرنیٹ ، سمارٹ فون ، ڈیوائسز اور فائبر آپیٹکل کی سہولیات کو یقینی بنائے ، آئی ٹی کی مدد سے تعلیم ، ہنر ، روزگار کے مواقع بڑھا کر مساوی ترقی یقینی بنائی جاسکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں آئی ٹی کے شعبے میں جدت آرہی ہے ، انٹرنیٹ اور کنکٹیوٹی کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے ۔ 2010 میں شبہاز شریف نے بطور وزیراعلی ای روزگار کا تصور دیا ، گزشتہ 10 سالوں میں 10 لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے ،دنیا میں فری لانسنگ کرنے والے پاکستانیوں کی کثیرتعداد نےا نہی لیپ ٹاپس کے ذریعے اپنا نام اور مقام حاصل کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تھری جی اور فور جی بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں لانچ ہوا اور اب ہماری حکومت میں ہی فائیو جی لانچنگ کی طرف جارہے ہیں ۔ پاکستان میں جتنی بھی ڈیجٹلائزیشن اور آئی ٹی کے شعبے میں ایڈوانسمنٹ ہورہی ہے اس میں پاکستان مسلم لیگ کا کلیدی کردار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک میں موبائل فون استعمال کرنے والے 15 کروڑ صارفین کو بہترین سروسز فراہم کیں جائیں ،ہماری کوشش ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں ۔

وزیر مملکت شیزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ یو ایس ایف کے تحت گزشتہ پانچ سالوں کے دوران کنکٹیوٹی کے حوالے سے 85 ارب روپے کے منصوبے مکمل ہوئے ہیں ۔ ہماری حکومت کا فوکس انٹرپینورشپ پر ہے تا کہ ہماری نوجوان نسل ملازمتوں کی تلاش کی بجا ئے ملازمتیں پیدا کرنے والی بن جائے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آپٹیکل فائبر بنانے والا ملک ہے ،گزشتہ کچھ سالوں میں ایک لاکھ 30 ہزار کلومیٹر فائبر آپٹیکل تیار کیا گیا ہے ۔ہمارے ملک میں موبائل فون کی 95 فیصد ضروریات مقامی طور پر تیار ہونے والے موبائل فون پوری کر رہے ہیں ، ہماری کوشش ہے کہ مقامی طور پر تیار ہونے والے موبائل فون برآمد کیے جائیں ۔

پاکستان

ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے، مولانا فضل الرحمان

ملک میں مسلح تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں، سربراہ  جمیعت علماء اسلام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے، مولانا فضل الرحمان

 جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  اسٹیملشمنٹ کو ہر شعبے میں اپنی بالادستی ختم کرنا ہو گی۔ ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ، اصغر اچکزئی ، خوشحال خان کاکڑ، عبد الخالق ہزارہ سے ملاقات کے بعد کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عزم استحکام آپریشن ملک میں عدم استحکام پیدا کرے گا۔ ملک میں مسلح تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں۔جمہوریت اور پارلیمنٹ اپنا مقدمہ ہار چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  ہم کسی اتحاد کی مخالفت نہیں کر رہے، سیاسی لوگوں کی باہمی مشاورت کا سلسلہ چلنا چاہیے، بات چیت اور مشاورت کے بہتر نتائج آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سورج غروب ہونے کے بعد پولیس تھانوں میں چھپ جاتی ہے۔ آپریشن عزم استحکام درحقیقت آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا، ہ عدم استحکام آپریشن ہے جو ملک کو کمزور کرےگا، مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ ملک کو اور کمزور کیوں کیا جارہا ہے؟

مولانا نے مزید کہا کہ جس شناختی کارڈ کی بنیاد  پر آرمی چیف پاکستانی ہے اسی بنیاد پر میں بھی پاکستانی ہوں، ہم سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، لیکن ایک طبقہ سمجھے کہ اس نے حاکم اور باقی سب نے غلام رہنا ہے، واضح کرنا چاہتے ہیں ہمارے قبیلوں کی یہ قسم نہیں، ہماری 300 سالہ تاریخ غلامی کے خلاف جنگ لڑنے کی ہے، انگریزوں کیخلاف 50 ہزار سے زائد مجاہدین کو شہید کیا گیا، ہم نے ملک غلامی کرنے کےلئے حاصل نہیں کیا تھا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، خیبرپختونخوا میں سورج غروب ہوتے ہی پولیس تھانوں میں بند ہوجاتی ہے، ملک کے چپے چپے پر فوج اور پولیس موجود ہے، کیوں بے بس ہے، شہبازشریف وزیراعظم نہیں بس کرسی پر بیٹھے ہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کسی قسم کے آپریشن کا ذکر نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ کے پی

اپیکس کمیٹی اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر اور ملک میں امن و امان پر  بات ہوئی، علی امین گنڈا پور

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کسی قسم کے آپریشن کا ذکر نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ کے پی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں ایک پالیسی بتائی گئی، پالیسی تھی کہ امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہئے، میٹنگ میں عزم پاکستان کا نام آیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اپیکس کمیٹی اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر اور ملک میں امن و امان پر  بات ہوئی، دہشتگردی کا خاتمہ ہونا چاہیے، اس حوالے سے سارے پاکستان بشمول کشمیر و گلگت میں ایک پالیسی ہونی چاہیے جس کو عزم پاکستان کا نام دیا گیا، اس میں آپریشن کا لفظ نہ پہلے ڈسکس ہوا نہ کبھی بعد میں اس کا ذکر ہوا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ میری آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، میں عسکری قیادت سے ملنا چاہتا ہوں آپریشن پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کا لفظ نہ پہلے تھا نہ بعد میں، بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں دہشتگردی میں کمی آئی، ہم نے سی ٹی ڈی کو بہتر کیا، ہماری پالیسی ہے عوام کو پہلے اعتماد میں لیا جائے، دہشت گردی کا مقابلہ عوام کے بغیر نہیں کر سکتے، صوبوں اور پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو پالیسی آئی ہی نہیں کہ انہوں نے کرنا کیا ہے، بلاول بھٹو نے پوری دنیا کا چکر لگایا مگر افغانستان نہیں گئے، ان کو ہمارے افواج پاکستان کے جوانوں اور سویلین جوانوں کی پرواہ نہیں، مقابلہ کرنے کیلئے ایک بہترین پالیسی اور بات چیت ہونی چاہئے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا ہے آپ افغانستان سے بات چیت کی پالیسی بنانا چاہتے ہیں تو کردار ادا کرسکتے ہیں، ہم پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس کے لیے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہیں۔

اعلی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پہلے بھی کہہ رہے تھے پاکستان کی خاطر مذاکرات کیلئے تیار ہوں، ہم بات کرنے کو تیار ہیں لیکن ٹرم اینڈ کنڈیشنڈ وہی ہوں گی، تحقیقات ہونی چاہئیں 9 مئی کیسے ہوا کس نے کیا؟، ہماری پہلی شرط ہے مینڈیٹ چوری، فارم 45 پر بات ہوگی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہمارا صوبہ بجلی بنانے والا ہے، آئین میں ہمارے حقوق ہیں، بجلی نہیں دی جا رہی، لوڈشیڈنگ کی ایک حد ہے، کہتے 12 گھنٹے تھے لیکن لوڈشیڈنگ 16 گھنٹے کی ہو رہی تھی، میں یہ چیزیں نہیں چاہتا لیکن عوام کی تکلیف دیکھنی پڑے گی۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میرے بجلی کی مد میں آپ نے 510 ارب روپے دینے ہیں، ہم نے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، ملک کے حالات کو بھی دیکھ رہے ہیں، ہم نے ایک ماہ میں 1 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر گورنر کا صوبے میں کوئی کام نہیں، گورنر خیبرپختونخوا مجھ پر 50 الزام لگا چکے ہیں، گورنر خیبرپختونخوا کا سیاسی باتیں کرنے کا کام نہیں، گورنر خیبرپختونخوا گھومتے پھر رہے ہیں، میں برداشت کر رہا ہوں، میرے لوگوں کو اٹھایا گیا، توڑا گیا، لوگ بے وقوف نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

صدر مملکت نے سپریم کورٹ  میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی

وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

صدر مملکت نے سپریم کورٹ  میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی

صدر مملکت نے سپریم کورٹ  میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی، وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

صدر مملکت نے جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری  دے دی۔

صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے تینوں ججوں کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے تینوں ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll