جی این این سوشل

جی این این میں ویڈیو ڈیسک آپ کو روزانہ کی تازہ ترین سرخیاں ، شوز ، پروگرام ، ایونٹس اور بہت کچھ فراہم کرے گا جب آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان

عمران خان  بیک وقت 9 حلقوں سے انتخاب لڑے گے، کاغذات نامزدگی جمع

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے قومی اسمبلی کے تمام  9 حلقوں سےکاغذات نامزدگی جمع کرا دیے گئے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک امیدوار  بیک وقت 9 حلقوں سے انتخاب لڑے گا۔

Published by Raja Sheroz Azhar

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے خود ضمنی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک امیدوار بیک وقت 9 حلقوں سے انتخاب لڑےگا۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 22، 24، 31، 45  سمیت 108، 118، 237، 239 اور 246 سے بھی عمران خان کےکاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

تمام 9 حلقوں میں پی ٹی آئی کے کَورنگ امیدواروں کے کاغذات جمع کروانےکا کام بھی مکمل ہوگیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ان 9 حلقوں میں پولنگ 25 ستمبر کو ہوگی۔

خواتین کی مخصوص نشست کے لیے پی ٹی آئی کی شاندانہ گلزار ، روحیلہ حامد اور مہوش علی خان بھی میدان میں ہیں۔

خیال رہےکہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 28 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کے 11 ارکان کے استعفے قبول کرلیے تھے اور انہیں خالی ہونے والی نشستوں پر 25 ستمبر کو الیکشن ہونے جارہے ہیں۔

عمران خان کے تمام 9 حلقوں سے کامیابی کی صورت میں انہیں 8 حلقوں کو چھوڑ کر ایک کا انتخاب کرنا ہوگا اور وہ میانوالی کی نشست سے پہلے ہی رکن قومی اسمبلی ہیں۔

عمران خان کے الیکشن جیتنے کی صورت میں قومی اسمبلی کے 9 حلقوں میں دوبارہ ضمنی الیکشن ہوگا اور اس صورت میں ایک مرتبہ پھر الیکشن پر 50 سے 90 کروڑ روپے تک اخراجات آئیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اگلے یوم آزادی تک ہم حقیقی آزادی لے چکے ہونگے، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ میں امریکا مخالف نہیں ہوں، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں غلامی نہیں۔

Published by Raja Sheroz Azhar

پر شائع ہوا

کی طرف سے

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ملک بھر میں جلسوں کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا میں نے عوام میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے، عدلیہ کو تقسیم کرنے اور ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فوج کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

لاہور کے ہاکی اسٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا حقیقی آزادی کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں ہے، پارٹی کے تمام عہدیداروں کو پیغام پہنچادیا ہے کہ تیاری کریں، نوجوانوں کی ٹائیگر فورس بنارہا ہوں جس میں خواتین بھی ہوں گی۔

عمران خان نے کہا راولپنڈی، کراچی، اسلام آباد، سکھر، حیدرآباد، مردان اٹک، ایبٹ آباد، ملتان بہاولپور، سرگودھا، جہلم ، گجرات، فیصل آباد، گجرانوالہ اور کوئٹہ میں جلسے کرینگے۔

انہوں نے کہا مجھے نکالنے والوں کا خیال تھا کہ لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے لیکن قوم میرے حق میں سڑکوں پر نکل آئی ہے، اگلے یوم آزادی تک ہم اپنی حقیقی آزادی لے چکے ہونگے، عمران خان نے کہا میں قوم کو اب ہونے والی سازش کا بتاؤں گا اور یہ بھی بتاؤں گا کہ اس سازش کو کیسے بے نقاب کرنا ہے۔

انہوں نے کہا جو سازش کررہے ہیں سن لیں کہ عمران خان کوئی ڈیل نہیں کرے گا، ان کا پلان ہے کہ کسی طرح عمران خان کو نا اہل کرو، بددیانت الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے انکی پوری مدد کی، انہوں نے میرے خلاف کیسز بنانے کا پلان بنایا ہے۔

انہوں نے کہا مجھے ڈس کو الیفائی کرکے نواز شریف کو ستمبر کے آخر میں واپس لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نوازشریف فکر نہ کرو میں تمہارا ایسا استقبال کروں گا کہ تم یاد رکھو گے۔

انہوں نے کہا ایک اور خطرناک گیم چل رہی ہے کہ کسی طرح تحریک انصاف اور فوج کے بیچ میں لڑائی کرائی جائے۔ ملک کی سب سے بڑی جماعت کا فوج سے آمنا سامنا کرانے کا نقصان ملک کو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں چاہوں گا کہ میرے ملک کی فوج کمزور ہو۔ یہاں اتنی بیرونی سازشیں ہیں، دشمن ہمارے تین ٹکڑے کرنا چاہتا ہے اس لیے میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ فوج کمزور ہو۔

انہوں نے کہا 25 مئی کو انہوں نے لوگوں کو گھروں میں گھس گھس کر ڈرایا اور سمجھے قوم سہم گئی ہے لیکن جب پنجاب کا ضمنی الیکشن آیا تو قوم نے انکی پھینٹی لگائی۔ کبھی ضمنی الیکشن میں قوم اس طرح نہیں نکلی۔

عمران خان نے کہا آزادی آسانی سے نہیں ملتی، اسکے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں، مجھے پتا ہے میری قوم قربانیاں دینے کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا جب تک اس امپورٹڈ حکومت کو فارغ اور الیکشن نہیں کراتے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اپنی قوم کو اکٹھا کروں گا، ہم ملکر اس ملک کے قرضے اتاریں گے۔

انہوں نے کہا میں امریکا مخالف نہیں ہوں، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں غلامی نہیں، میں اپنے لوگوں کے فائدے کیلئے روس گیا تھا، یہ ہوتے کون ہیں پوچھنے والے کہ میں روس کیوں گیا؟ کیا میں انکا غلام ہوں، میں چاہتا تھا ہم روس سے سستا تیل اور 20 لاکھ ٹن گندم خریدیں، امپورٹڈ حکومت جب آئی ہم روس سے سستا تیل خریدنے کی بات کرچکے تھے۔

انہوں نے کہا ہمارے حکمران امریکا کی ٹانگوں میں لیٹے ہوئے ہیں۔ ان میں اتنی جرات نہیں تھی کہ کہتے یہ ہمارے عوام کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا قائداعظم نے کہا تھا مسلمان ہمیشہ آزادی کیلئے جدوجہد کرتا ہے، قائداعظم نے کہا انگریزکی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے، قائد اعظم نے ہمیں غلامی سے آزادی دلوائی۔

عمران خان نے کہا آج آپ لوگوں کو حقیقی آزادی کا روڈ میپ دینا ہے، وہ ملک خوش قسمت ہے جس میں جنونی باشعور نوجوان ہوتے ہیں اور جس کی مائیں، بہنیں آزادی کا جذبہ رکھتی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا 26 سال سے میری کردار کشی کی جارہی ہے، اللہ کی شان دیکھیں آج بڑی تعداد میں لوگ آئے اور حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعطم محمد علی جناح نے ہمیں غلامی سے آزادی دلوائی، جو قوم غلام ہوتی ہے کبھی اسکی پرواز اوپر نہیں ہوتی، خوف بھی ایک غلامی ہوتی ہے، انسان خوف کی وجہ سے اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہے۔

عمران خان نے کہا خوف کا بت انسان کو غلام بنادیتا ہے، کبھی بھی ایک غلام قوم اوپر نہیں آسکتی، ہم ہاتھ پھیلا کر دنیا کے سامنے کیوں پھرتے ہیں؟۔

عمران خان نے کہا جو قوم غلام ہوتی ہے کبھی اس کی پرواز اوپر نہیں ہوتی، انسان جب گرتا ہے تو جانوروں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے، مجھے بدنام کرنے کیلئے ہرقسم کے حربے استعمال کیے گئے۔

انہوں نے کہا 26 سال سے یہ لوگ میری کردار کشی کر رہے ہیں، پڑھے لکھے اور ایماندار لوگ کہتے تھے سیاست بڑی گندی ہے، میں انصاف اور خودداری کیلئے سیاست میں آیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا تلوار سے انقلاب نہیں آیا تھا، فکری انقلاب ذہنوں سے آیا تھا، ہمارے لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ تلوار سے اسلام پھیلا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ہم بحرانوں سے کیوں دوچار ہوئے جس میں سب سے بڑا معاشی بحران ہے، وزیر اعظم

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایسا نہیں بنایا جس سے قائد اور دیگر رہنماؤں کی روحیں مسرور ہوں، ہم نے ان دونوں کے اصل مقاصد کو اپنایا نہیں۔

Published by Raja Sheroz Azhar

پر شائع ہوا

کی طرف سے

قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو وہ سب کچھ نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار ہیں، ہم بحرانوں سے کیوں دوچار ہوئے جس میں سب سے بڑا معاشی بحران ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہی وہ قوم ہے جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت  میں وسائل نہ ہونے کے باوجود ایٹمی پروگرام شروع کیا، یہی وہ قوم ہے جس نے نواز شریف کی قیادت میں ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اسی مہینے ارشد ندیم اور نوح بٹ نے کامیابیاں حاصل کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کیا، اسی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی، اب قوم کو تقسیم در تقسیم کیا جا رہا ہے، قوم کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پچھلی حکومت نے فیصلوں کے قوم کو مزید مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll