جی این این سوشل

Live With Dr. Shahid Masood | GNN | 22 September 2022

69484 لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھی ہے

جی این این میں ویڈیو ڈیسک آپ کو روزانہ کی تازہ ترین سرخیاں ، شوز ، پروگرام ، ایونٹس اور بہت کچھ فراہم کرے گا جب آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان

پنجاب حکومت کا سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘ مظلوم خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کا ٹویٹ

Published by Muhammad Akram

پر شائع ہوا

کی طرف سے

 پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پروزی الٰہی نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف کی ذمہ داری پوری کرکے اللہ تعالیٰ اور عوام کے سامنے سرخروہوں گے، عدالتی احکامات کی روشنی میں جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیاجائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوم خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جس کے لیے ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے اور متاثرین کو ہر صورت میں انصاف مہیا کیا جائے گا۔

 

ادھر پنجاب کی صوبائی کابینہ نے احساس راشن رعایت پروگرام کی منظوری دے دی، جس کے تحت صوبے کے عوام کو آٹے، دال، گھی یا کوکنگ آئل پر40 فیصد تک رعایت ملے گی، پنجاب احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ پنجاب کابینہ نے 100 ارب روپے کے احساس راشن رعایت پروگرام کی منظوری دےدی ہے، جس سے 80 لاکھ گھرانے مستفید ہوں گے جنہیں آٹے، دال،گھی یا پکانے کے تیل پر 40 فیصد تک رعایت ہوگی۔ 

ہوں نے کہا کہ آج سے رجسٹریشن کا آغاز ہوگیا ہے، جو گھرانے اس پروگرام سے مستفید ہونا چاہتے ہیں وہ اس کیو آر کوڈ کو سکین کرکے اپنی رجسٹریشن کروائیں اس کے علاوہ کریانہ دکاندار بھی رجسٹریشن کروائیں جب کہ جو دکاندار پہلے سے پروگرام میں شامل تھے ان کو دوبارہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے، دکانداروں کو ہر سبسڈی سیل پر 8 فیصد کمیشن اور ہر سہ ماہی میں قرعہ اندازی کے ذریعے قیمتی انعامات دیئے جائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سپریم کورٹ سائفر کی تحقیق نہیں کرے گا تو حالات گھمبیر ہوسکتے ہیں؛ شیخ رشید

اگرعمران خان کی کال پر فیصلہ چوک اور چوارہے میں ہونا ہے تو جھاڑو پھر جائے گا۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ کا بیان

Published by Muhammad Akram

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سائفر کی تحقیق نہیں کرے گا تو حالات گھمبیر ہوسکتے ہیں، اکتوبر اہم ہے 15 نومبر تک اہم سیاسی فیصلے ہوجائیں گے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کم عقل حکمران ہر قدم اپنے خلاف اٹھاتے ہیں، اسلام آباد کی پولیس تھک چکی ہے،

عمران خان کی نااہلی اور گرفتاری سے حکمرانوں کو کچھ نہیں ملے گا اور سپریم کورٹ سائیفر کی تحقیق نہیں کرے گا تو حالات گھمبیر ہو سکتے ہیں۔ 

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ 2 ہفتوں سے بلاول بھٹو امریکہ میں مزے کررہا ہے اُسے سندھ کے سیلاب زدگان کی کوئی فکر نہیں، پاکستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اب اعلیٰ عدالتوں سے منسلک ہے،

4 اکتوبر کو نیب ترامیم کیس کی سماعت بھی اہم ہے، اگر عمران خان کی کال پر فیصلہ چوک اور چوارہے میں ہونا ہے تو جھاڑو پھر جائے گا، عوام کے مسائل سے ڈیل کی ضرورت ہے چوروں سےنہیں، اکتوبر اہم ہے 15 نومبر تک اہم سیاسی فیصلے ہوجائیں گے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سفارتی سائفر سے متعلق اہم اعلان کر دیا، انہوں نے کہا کہ سائفر موجود ہے جس میں سب کچھ لکھا ہوا ہے

اور وہ چیف جسٹس کے پاس بھی ہے، چیف جسٹس کہہ دیں سائفر غلط ہے، ہم اگلے دن اسمبلی واپس چلے جائیں گے، سائفر کی ایک کاپی میرے پاس تھی، پتا نہیں وہ کہاں غائب ہو گئی ہے۔ 

چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ڈی مارش کرنےسے پہلے ہماری جانب سے کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا، سائفر معاملے کو قومی سیکیورٹی کمیٹی کے سامنے رکھنے کے بعد ہم نے پبلک کیا،

قومی سیکیورٹی کمیٹی میں فیصلہ کرچکے تھے کہ سائفر کو ڈی مارش کیا جائے، ڈی مارش کرنےسے پہلے ہماری جانب سے کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا،

جو بھی باتیں آڈیو لیک میں سائفر کے حوالے سے کیں وہ سب تو میں جلسوں میں کر چکا ہوں، عام لوگ سائفر کو نہیں سمجھتے، ان کی زبان میں انہیں سمجھانے کے لیے لیٹر کا لفظ استعمال کیا، پاکستانی سفیر نے سائفر کے آخر میں لکھا تھا کہ ہمیں اسے ڈیمارچ کرنا چاہیے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آڈیو لیکس: وفاقی کابینہ کی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری

وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس معاملے پر چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی۔

Published by Muhammad Akram

پر شائع ہوا

کی طرف سے

 

وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کیس میں عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی۔کابینہ کمیٹی نے یکم اکتوبر کو اجلاس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی۔

کابینہ کمیٹی کی سفارشات کو سمری کی شکل میں کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کیا گیا تھا۔وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دیدی۔

کابینہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔

کابینہ کمیٹی کی جانب سے سمری میں سفارش کی گئی ہے کہ ایف آئی اے سینئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ایف آئی اے دیگر اداروں سے بھی اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll