اس پروگرام پر عملدرآمد یکم جولائی سے 12 ستمبر تک کیا جائے گا


دبئی حکومت نے متعدد سرکاری ملازمین کے لیے اس موسم گرما کے دوران 4 روز تک کام اور 3 چھٹیاں دینے کے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت سرکاری ملازمین کو 2 گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک گروپ پیر سے جمعرات تک روزانہ 8 گھنٹے کام کرنے والے افراد پر مشتمل ہوگا جن کو جمعہ سے اتوار تک چھٹیاں دی جائیں گی۔
دوسرے گروپ میں شامل افراد پیر سے جمعرات تک روزانہ 7 گھنٹے کام کریں گے جبکہ جمعے کو آدھے دن کام کرنا ہوگا، ہفتہ اور اتوار ان کی چھٹی ہوگی۔
اس پروگرام پر عملدرآمد یکم جولائی سے 12 ستمبر تک کیا جائے گا۔ اس سے قبل 2024 کے موسم گرما میں دبئی حکومت کے ہیومین ریسورسز ڈیپارٹمنٹ نے اس سے ملتے جلتے پائلٹ پروگرام کو متعارف کرایا تھا۔
اس پروگرام کے تحت ملازمین میں ایک سروے کرکے موسم گرما کے دوران کام کے دورانیے پر رائے حاصل کی گئی اور اگست اور ستمبر کے دوران دفاتر کے اوقات میں کمی کی تجویز دی گئی تھی۔ہیومین ریسورسز ڈیپارٹمنٹ نے پائلٹ پروگرام کا مشاہدہ کرنے کے بعد اسے کامیاب قرار دیا اور ایک سال مزید عملدرآمد کی تجویز دی۔
دبئی ہیومین ریسورسز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ الفیصل نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ملازمین کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے اور حکومتی وسائل کے استحکام کو بڑھانا ہے۔
اس سے قبل شارجہ کی حکومت نے بھی 2022 میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کے ایک پروگرام کو متعارف کرایا تھا۔ایسا اس وقت کیا گیا جب متحدہ عرب امارات کی حکومت نے جنوری 2022 میں ساڑھے 4 دن کے کاروباری ہفتے پر عملدرآمد شروع کیا تھا۔
واضح رہے کہ دنیا میں ہر ہفتے 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کا سب سے بڑا ٹرائل 2022 میں برطانیہ میں ہوا تھا۔ اس ٹرائل میں شامل 61 میں سے 56 کمپنیوں نے اس معمول کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ 18 نے تو اسے مستقل طور پر اپنانے کا اعلان کیا۔
ٹرائل کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن تعطیلات سے ملازمین کی پیداواری صلاحیتوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔مجموعی طور پر 2900 ملازمین اس ٹرائل کا حصہ بنے اور نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کی پیداواری صلاحیتیں بہتر ہوگئیں۔

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 12 hours ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 13 hours ago

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 12 hours ago

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 12 hours ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 14 hours ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 14 hours ago

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 13 hours ago

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 8 hours ago

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 8 hours ago

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 8 hours ago

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 14 hours ago

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 8 hours ago









