Advertisement
Mobin
Advertisement
پاکستان

براڈشیٹ اسکینڈل:جسٹس (ر) عظمت سعیدکی بطورسربراہ کمیشن تعیناتی کانوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد :وفاقی حکومت کی جانب سے براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیےجسٹس (ر) عظمت سعید کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 سال قبل پر جنوری 31 2021، 4:03 صبح
ویب ڈیسک کے ذریعے

 

تفصیلات کے مطابق  وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جبکہ نوٹیفکیشن کے ساتھ ٹی او آرز بھی جاری کیے گئے ہیں ۔  کمیشن کوتحقیقات کے لیے افسران اور ماہرین پرمشتمل کمیٹیاں بنانےکا اختیار ہوگا،  کمیشن براڈشیٹ اور آئی اے آر کےانتخاب، تقرری اورمعاہدوں کی چھان بین کرےگا۔ کمیشن 2003 میں براڈشیٹ اور انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری(آئی اے آر) فرمز سے معاہدوں کی منسوخی کی وجوہات کی جانچ کرے گا  جبکہ  کمیشن 2008 میں براڈ شیٹ کوپاکستان کی ادائیگیوں کی وجوہات اور اثرات کی نشاندہی بھی کرےگا۔

27جنوری کو وفاقی کابینہ نے  انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت ایک رکنی   کمیشن تشکیل دیا تھا ۔  19جنوری کو وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ کے  معاملے پر ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں5رکنی  انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی منظوری  دی تھی ۔  

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے جسٹس (ر) عظمت سعید کا تقرر مسترد کردیا تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں کاکہنا ہے  کہ جسٹس عظمت  سعید نیب پراسیکیوٹر رہ چکے ہیں جبکہ شوکت خانم کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی ہیں۔  اس کے علاوہ نواز شریف کا پاناما کیس کا فیصلہ دینے والے جج بھی  یہی ہیں ۔

براڈ شیٹ کیس کیا ہے اور نیب معاہدہ :

1999 میں جنرل پرویز مشرف نے کرپٹ سیاستدانوں  احتساب کے لیے قومی احتساب بیورو نیب  قائم کیا ۔  لہذا کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ سال  2000 میں نیب کے لیے  کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ نیب نے برطانوی رجسٹرڈ براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی سراغ رساں کمپنی کے ساتھ مبینہ ناجائز طور پر کمائی گئی دولت کے ذریعے خریدے گئے غیرملکی اثاثوں کا پتہ لگانے کے لئے معاہدہ کیا اور 200اہداف کے نام براڈ شیٹ کو فراہم کیے گئے ۔سال 2000 میں نیب کے   معاہدے میں یہ قرار دیا گیا  کہ کمپنی جو بھی اثاثے برآمد کرے گی اس کا 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا اور بقیہ نیب کے پاس جائے گا۔اس معاہدے میں براڈشیٹ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ نیب کی جگہ اثاثے ضبط کرنے کے لیے ضروری قانونی کارروائی یا قانونی چارہ جوئی کی کارروائی شروع کر سکتی تھی۔نیب اور براڈشیٹ نے ایک بینک اکاؤنٹ کھولنے پر بھی اتفاق کیا تھا جس کو نیب اور کمپنی کو مشترکہ طور پر کنٹرول کرنا تھا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ برآمد ہونے والی تمام اثاثوں کی رقم کو اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔

2003 میں پاکستان حکومت نے یہ کہہ کر یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر دیا کہ فرم کی جانب سے کوئی قابل عمل اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں۔تاہم فرم کا موقف تھا کہ اس نے لسٹ میں شامل افراد کے اثاثوں کے حوالے سے قابل ذکر معلومات فراہم کی ہیں تاہم نیب نے ان افراد سے اس معلومات کی بنا پر ڈیل کر لی ہے۔

اسی دعوے کی بنیاد پر براڈ شیٹ ایل ایل سی نے حکومت پاکستان اور نیب کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں جرمانے کا دعویٰ کر دیا۔ 2003میں معاہدے کی منسوخی پر کمپنی نے واجب الادا 2کروڑ 20لاکھ ڈالر کی وصولی کے لئے لندن ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس کے ساتھ 4ہزار 758ڈالر یومیہ کا اس پر سود بھی لگایا گیا تھا۔

  20 مئی 2008 میں براڈ شیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ، 1.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی ہوئی،2009 میں معلوم ہوا کہ  ادائیگی  ایسے شخص کو کی گئی جس کا تعلق اس کمپنی سے نہیں تھا  ۔ 2009سے 2016 تک یہ مقدمہ چلتا رہا  ، براڈشیٹ کےساتھ جنوری2016 میں لائیبلٹی کا کیس شروع ہوا،ہائیکورٹ  فیصلے پر حکومت پاکستان نے جولائی 2019 کو اپیل فائل کی ، اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا۔  پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد جولائی 2019 میں پاکستان نے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کی مگر فیصلہ تبدیل نہیں ہوا ۔ 31 دسمبر 2020 کو ثالثی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے براڈ شیٹ کو  2کروڑ 87لاکھ ڈالرزجرمانہ ادا کیا۔

 

Advertisement
Moib
لاہور:ایم ڈبلیو ایف کے زیر اہتمام منعقدہ پانچ روزہ مفت مستحقین عید میلہ رضاکار کنونشن کے ساتھ اختتام پذیر

لاہور:ایم ڈبلیو ایف کے زیر اہتمام منعقدہ پانچ روزہ مفت مستحقین عید میلہ رضاکار کنونشن کے ساتھ اختتام پذیر

  • 3 hours ago
بھارتی ریاست اوڑیسہ کے ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں10مریض جاں بحق

بھارتی ریاست اوڑیسہ کے ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں10مریض جاں بحق

  • 3 hours ago
آپریشن غضب للحق: پاک فوج کی کارروائیاں جاری، باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی سرحدی پوسٹیں تباہ

آپریشن غضب للحق: پاک فوج کی کارروائیاں جاری، باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی سرحدی پوسٹیں تباہ

  • 3 hours ago
اسرائیل کی جارحیت جاری، جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن شروع، حزب اللہ سے شدید جھڑپیں

اسرائیل کی جارحیت جاری، جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن شروع، حزب اللہ سے شدید جھڑپیں

  • 2 hours ago
طالبان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جنوبی وزیرستان حملے کی جعلی ویڈیو پھیلانے کا انکشاف

طالبان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جنوبی وزیرستان حملے کی جعلی ویڈیو پھیلانے کا انکشاف

  • an hour ago
آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان رجیم کی  252 پوسٹیں تباہ اور 684کارندے ہلاک ہوچکے ہیں ،عطا تارڑ

آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان رجیم کی  252 پوسٹیں تباہ اور 684کارندے ہلاک ہوچکے ہیں ،عطا تارڑ

  • a day ago
وانا میں کسی فوجی تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا: افغان طالبان کا حملے کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات

وانا میں کسی فوجی تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا: افغان طالبان کا حملے کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات

  • a day ago
باجوڑ میں افغان طالبان رجیم کا معصوم شہریوں پر حملہ، 4 بھائی شہید،ایک بچہ زخمی

باجوڑ میں افغان طالبان رجیم کا معصوم شہریوں پر حملہ، 4 بھائی شہید،ایک بچہ زخمی

  • 3 hours ago
سونے کی قیمتوں میں چوتھے روز نمایاں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

سونے کی قیمتوں میں چوتھے روز نمایاں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 3 hours ago
رحیم یار خان: امدادی رقم کی تقسیم کے دوران دکان کی چھت گر گئی ، 8 خواتین جاں بحق ،متعدد زخمی

رحیم یار خان: امدادی رقم کی تقسیم کے دوران دکان کی چھت گر گئی ، 8 خواتین جاں بحق ،متعدد زخمی

  • an hour ago
امریکی اور صیہونی جارحیت کے خلاف حمایت پر ایرانی وزیر خارجہ کا اردو زبان پاکستان سے اظہارِ تشکر

امریکی اور صیہونی جارحیت کے خلاف حمایت پر ایرانی وزیر خارجہ کا اردو زبان پاکستان سے اظہارِ تشکر

  • 3 hours ago
سیکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کارروائی ، بھارتی حمایت یافتہ5 خارجی جہنم واصل

سیکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کارروائی ، بھارتی حمایت یافتہ5 خارجی جہنم واصل

  • 21 hours ago
Advertisement