براڈشیٹ اسکینڈل:جسٹس (ر) عظمت سعیدکی بطورسربراہ کمیشن تعیناتی کانوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد :وفاقی حکومت کی جانب سے براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیےجسٹس (ر) عظمت سعید کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جبکہ نوٹیفکیشن کے ساتھ ٹی او آرز بھی جاری کیے گئے ہیں ۔ کمیشن کوتحقیقات کے لیے افسران اور ماہرین پرمشتمل کمیٹیاں بنانےکا اختیار ہوگا، کمیشن براڈشیٹ اور آئی اے آر کےانتخاب، تقرری اورمعاہدوں کی چھان بین کرےگا۔ کمیشن 2003 میں براڈشیٹ اور انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری(آئی اے آر) فرمز سے معاہدوں کی منسوخی کی وجوہات کی جانچ کرے گا جبکہ کمیشن 2008 میں براڈ شیٹ کوپاکستان کی ادائیگیوں کی وجوہات اور اثرات کی نشاندہی بھی کرےگا۔
27جنوری کو وفاقی کابینہ نے انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا ۔ 19جنوری کو وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ کے معاملے پر ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں5رکنی انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی تھی ۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے جسٹس (ر) عظمت سعید کا تقرر مسترد کردیا تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں کاکہنا ہے کہ جسٹس عظمت سعید نیب پراسیکیوٹر رہ چکے ہیں جبکہ شوکت خانم کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی ہیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف کا پاناما کیس کا فیصلہ دینے والے جج بھی یہی ہیں ۔
براڈ شیٹ کیس کیا ہے اور نیب معاہدہ :
1999 میں جنرل پرویز مشرف نے کرپٹ سیاستدانوں احتساب کے لیے قومی احتساب بیورو نیب قائم کیا ۔ لہذا کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ سال 2000 میں نیب کے لیے کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ نیب نے برطانوی رجسٹرڈ براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی سراغ رساں کمپنی کے ساتھ مبینہ ناجائز طور پر کمائی گئی دولت کے ذریعے خریدے گئے غیرملکی اثاثوں کا پتہ لگانے کے لئے معاہدہ کیا اور 200اہداف کے نام براڈ شیٹ کو فراہم کیے گئے ۔سال 2000 میں نیب کے معاہدے میں یہ قرار دیا گیا کہ کمپنی جو بھی اثاثے برآمد کرے گی اس کا 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا اور بقیہ نیب کے پاس جائے گا۔اس معاہدے میں براڈشیٹ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ نیب کی جگہ اثاثے ضبط کرنے کے لیے ضروری قانونی کارروائی یا قانونی چارہ جوئی کی کارروائی شروع کر سکتی تھی۔نیب اور براڈشیٹ نے ایک بینک اکاؤنٹ کھولنے پر بھی اتفاق کیا تھا جس کو نیب اور کمپنی کو مشترکہ طور پر کنٹرول کرنا تھا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ برآمد ہونے والی تمام اثاثوں کی رقم کو اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔
2003 میں پاکستان حکومت نے یہ کہہ کر یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر دیا کہ فرم کی جانب سے کوئی قابل عمل اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں۔تاہم فرم کا موقف تھا کہ اس نے لسٹ میں شامل افراد کے اثاثوں کے حوالے سے قابل ذکر معلومات فراہم کی ہیں تاہم نیب نے ان افراد سے اس معلومات کی بنا پر ڈیل کر لی ہے۔
اسی دعوے کی بنیاد پر براڈ شیٹ ایل ایل سی نے حکومت پاکستان اور نیب کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں جرمانے کا دعویٰ کر دیا۔ 2003میں معاہدے کی منسوخی پر کمپنی نے واجب الادا 2کروڑ 20لاکھ ڈالر کی وصولی کے لئے لندن ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس کے ساتھ 4ہزار 758ڈالر یومیہ کا اس پر سود بھی لگایا گیا تھا۔
20 مئی 2008 میں براڈ شیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ، 1.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی ہوئی،2009 میں معلوم ہوا کہ ادائیگی ایسے شخص کو کی گئی جس کا تعلق اس کمپنی سے نہیں تھا ۔ 2009سے 2016 تک یہ مقدمہ چلتا رہا ، براڈشیٹ کےساتھ جنوری2016 میں لائیبلٹی کا کیس شروع ہوا،ہائیکورٹ فیصلے پر حکومت پاکستان نے جولائی 2019 کو اپیل فائل کی ، اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد جولائی 2019 میں پاکستان نے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کی مگر فیصلہ تبدیل نہیں ہوا ۔ 31 دسمبر 2020 کو ثالثی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے براڈ شیٹ کو 2کروڑ 87لاکھ ڈالرزجرمانہ ادا کیا۔

ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
- 2 days ago

ایشین گیمز ہاکی:ملائیشیا نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے میں ہرا دیا
- 4 days ago

ڈی آئی خان: چیک پوسٹ کے قریب دھماکا،11 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- 4 days ago

پاک بحریہ کی بحیرہ عرب میں کارروائی،2,800 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط
- 4 days ago
ملک میں سونے کی قیمتوں میں حیرت انگیزکمی
- 2 days ago

روس میں تربیتی پرواز کے دوران Tu-95 بمبار طیارہ گر کر تباہ،عملے کے 6 ارکان ہلاک
- a day ago

خیبرپختونخوا میں پولیو کا چوتھا کیس سامنے آگیا
- a day ago

فیفا آسیان کپ: پاکستان کا فلپائن کیخلاف میچ 2-2 سے برابر، اپنا پہلا پوائنٹ حاصل کرلیا
- a day ago

ممتاز عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان کی معاشی اصلاحات کی صورتحال پر اعتماد کا اظہار
- a day ago

امریکہ افغانستان جنگی کمیشن کی علاقائی امن کے لیے پاکستان کی خدمات کی تعریف
- 2 days ago

آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس، مرکزی ملزم گرفتار
- 2 days ago

آصف اقبال کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، فنی خدمات کو خراجِ تحسین
- 2 days ago





