چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آئین اور قانون پر عملدراری کی بات ہوتی ہے، ہم قانون سے متعلق اور عوامی اہمیت کا معاملہ دیکھتے ہیں، ہم اپنے اختیارات کا بہت محتاط ہوکر استعمال کرتے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتیں حقائق جاننے کے لیے سوالات اٹھاتی ہیں، قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں اور تنازعات کو ماہرین کے ذریعے حل کیاجانا چاہیے، ٹریبونلز کے نہ بننے سے عدالتوں پر بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ تجارتی سرگرمیاں بڑھنے سے معیشت مضبوط ہوگی، کاروبار کے لیے ریگولیٹری سسٹم کی ضرورت ہے اور ریگولیٹری فریم ورک میں شفافیت لانے کی ضرورت ہے، بزنس کی ترقی کےلیے حکومت کے رابطےبہتربنانےکی ضرورت ہے، بزنس مین کے آنے اور فیصلے کرنے کے لیے بہتری کا تسلسل ضروری ہوتا ہے ، بے یقینی ہوتو مختصر مدت کے فیصلے لیےجاتے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئی پی پیز آئیں کیونکہ حکومت نے 30 سال کے ٹیرف کی گارنٹی دی۔

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- ایک دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 2 دن قبل

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- ایک دن قبل
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- ایک دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 3 دن قبل
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- ایک دن قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 3 دن قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 3 دن قبل
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- ایک دن قبل
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- 4 گھنٹے قبل

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- ایک دن قبل
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- ایک دن قبل


