نام نہاد "بلوچ حقوق" کا دفاع کرنے والے اپنی کمیونٹی کو نشانہ بنا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟
اپنی ہی کمیونٹی کو نشانہ بنانا، ان کی زندگیاں، عزت نفس، اور ترقی تباہ کرنا کیسے کسی جائز مقصد کی خدمت کرتا ہے

نام نہاد "بلوچ حقوق" کے دفاع کرنے والوں کو یہ وضاحت دینی ہوگی کہ اپنی ہی کمیونٹی کو نشانہ بنانا، ان کی زندگیاں، عزت نفس، اور ترقی تباہ کرنا کیسے کسی جائز مقصد کی خدمت کرتا ہے زہری تحصیل میں دہشت گردوں نے گھنٹوں تک افراتفری مچائی، کاروبار لوٹے اور بندوق کی نوک پر لوگوں کو زیر کرنے کی کوشش کی، جو ان کے اپنے دعوؤں کے برعکس ہے۔
نادرا سینٹرز، ترسیلات زر کے ذرائع، اور پاسپورٹ بائیومیٹرک خدمات کی تباہی نے کمیونٹی کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا۔ مقامی بینک کو لوٹ کر عوام کو مالی تحفظ سے محروم کر دیا گیا، جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ فضائی فائرنگ، مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلانات اور عوامی سزا کے ذریعے خوف پیدا کر کے لوگوں کو دباؤ میں لایا گیا۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ایزی پیسہ جیسے منصوبوں کو ختم کر کے دہشت گردوں نے بلوچ کمیونٹی کو تنہا رکھنے اور ان کی ترقی کو روکنے کی سازش کی۔ ان حملوں نے رہائشیوں کے تحفظ اور عزت نفس کو چھین لیا، جس سے وہ اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ محسوس کرنے لگے۔ دہشت گردوں نے مقامی ضروریات اور جذبات کو مکمل نظر انداز کیا اور صرف بیرونی پروپیگنڈے اور غیر ملکی حمایت پر توجہ دی۔
بلوچ لبریشن آرمی نے بارہا بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے، نہتے شہریوں پر حملے کر کے بجائے اس کے کہ وہ کسی منصفانہ یا بامقصد جدوجہد میں شامل ہو۔ حملہ آور سیکیورٹی فورسز کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلح مزاحمت کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہوتے ہیں، کیونکہ سیکیورٹی فورسز ان کی لوٹ مار اور تباہ کن سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان کے اقدامات ان کے دعووں کی حقیقت اور ان کے اپنے لوگوں کو پہنچنے والے نقصان کو بے نقاب کرتے ہیں۔ انصاف اور حقیقی احتساب کے لیے اس تشدد اور دھوکہ دہی کے سلسلے کو ختم کرنا ضروری ہے ۔
بلوچ آبادی نام نہاد قوم پرست عناصر کی تباہ کاریوں سے مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ محفوظ سمجھے جانے والے علاقے یا وہ علاقے جہاں کبھی تشدد کی تاریخ نہیں رہی، وہاں دہشت گردوں کے گروہ پہنچ کر زندگیوں کو اجیرن اور ماحول کو خراب کرتے ہیں۔ فاصلوں اور کمیونیکیشن کے انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے کسی بھی صورت حال کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچنے اور ان کے ردعمل میں وقت لگتا ہے، جس سے دشمن کے عزائم کو تقویت ملتی ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی جانب سے زہری کے عوام کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنانا، ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا، خاص طور پر اس لیے کہ یہ محب وطن عوام ہر عام انتخابات میں بھرپور جوش و خروش سے ووٹ دیتے آئے ہیں۔ مسلح مزاحمت کی عدم موجودگی نے دہشت گردوں کو جری بنا دیا، جنہوں نے مقامی بلوچ نوجوانوں، جو لیویز میں خدمات انجام دے رہے تھے، پر تشدد کیا، کاروبار تباہ کیے، اور لوٹ مار کے ذریعے اپنے خزانوں کو بھرا۔
مسجد کے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اپنی آمد کا اعلان کرنا، نادرا کی عمارت اور دیگر عوامی دفاتر کو تباہ کرنا دراصل ان کے لوٹ مار کے منصوبوں پر پردہ ڈالنے کا ایک بہانہ تھا، جسے وہ حقوق کی جنگ کا نام دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستان مخالف سوشل میڈیا کو مواد فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تاکہ وہ باقی کا پروپیگنڈا کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اصل توجہ یو بی ایل بینک کی لوٹ مار، لیویز اہلکاروں پر جسمانی تشدد، اور مقامی کاروباروں کی لوٹ مار پر ہونی چاہیےباقی سب دھوکہ ہے یہ کیسے اپنے لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہے؟ حقیقت میں، یہ ان کے خلاف سب سے بڑی سازش ہے۔ ہر بار ایسے واقعات کے بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پروپیگنڈا مشینری فوراً سرگرم ہو جاتی ہے، جو ان کے روابط اور اصل چہرے کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایسے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں مقامی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ دراصل حقوق کی جدوجہد کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

وزیر خزانہ اور فچ ریٹنگز کے نمائندوں کا پاکستان کی معاشی کارکردگی پر تبادلہ خیال
- 7 hours ago

مکہ مکرمہ: پاکستانی شہری کو ہیروئن اسمگل کرنےکے جرم میں سزائے موت دے دی گئی
- 2 days ago

آرمی چیف کا روس کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ
- 2 days ago

ایکشن، رومانس اور سسپنس سے بھرپور فلم ’’مینگو جٹ‘‘ ریلیز، پریمیئر میں شوبز ستاروں کی شرکت
- 9 hours ago

پنجاب یونیورسٹی لاہور میں لالی وڈ کی نئی فلم 'پشمینہ' کی اوپپنگ تقریب
- a day ago

اے آئی بے لگام: انتھروپک کمپنی نے اے آئی سے لاحق ایک اور بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا
- 2 days ago
ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں ایک بار پھر توسیع
- a day ago

پشاور: نجی اسکول کی چھت گرنے سے30 بچے, دوخاتون ٹیچر ہلاک
- 2 days ago

دفترخارجہ نے بھارتی وزیردفاع کے پاکستان کیخلاف اشتعال انگیز بیان کو مسترد کر دیا
- 7 hours ago

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کردی گئی
- a day ago

ایک دن کے اضافے کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کی کمی
- 2 days ago

امریکا: 16 سالہ لڑکےکی اسکول میں فائرنگ،3 بچے اورایک استاد ہلاک
- 10 hours ago





