وکلا کے ممکنہ احتجاج، سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی سخت،میٹرو سروس بھی جزوی معطل
احتجاج کے باعث عدالت عظمیٰ میں شیڈول سویلین ٹرال کیس کی سماعت بھی ملتوی کردی گئی


وکلا کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی سخت کر دی گئی جبکہ جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس بھی محدود کر دی گئی ہے۔
وکلا کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سپریم کورٹ کے احاطے میں بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور سپریم کورٹ جانے کے لیے صرف مارگلہ روڈ کھلا رکھا گیا ہے۔سپریم کورٹ جانے والے راستے بند ہونے کے باعث عدالت عظمیٰ میں شیڈول سویلین ٹرال کیس کی سماعت بھی ملتوی کردی گئی ہے۔
ریڈ زون کے داخلی راستے بند ہونے کے باعث کشمیر چوک میں شدید ٹریفک جام ہے، سرینا چوک، نادرا، میریٹ، ایکسپریس چوک اورٹی کراس بری امام بھی بند ہیں جبکہ جناح انڈر پاس بھی کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا ہے۔
ممکنہ احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کے آپریشن کو بھی محدود کر دیا گیا ہے، میٹرو بس سروس فیض احمد فیض اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک بند ہے۔میٹرو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ راولپنڈی صدر اسٹیشن سے فیض احمد فیض اسٹیشن تک بس سروس بحال ہے، اسلام آباد میں میٹرو بس سروس سکیورٹی وجوہات کے باعث بند کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں وکلا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں منیر اے ملک اور علی احمد کرد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر احتجاج روکنے کے لیے راستے بند کرنے کا الزام عائد کیا۔ کراچی اور سندھ سے وکلا کل رات ہی اسلام آباد پہنچے تھے، مگر انہیں احتجاج سے روکنے کے لیے تمام راستے بند کر دیے گئے۔ ہمارا احتجاج جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف ہے اور ہم اس معاملے کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ عدلیہ اور ریاست پاکستان پر حملے کے مترادف ہے۔
علی احمد کرد نے کہا کہ پاکستان میں اس طرح کے حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے یہ ترمیم منظور کی، انہیں شرم آنی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن میں من پسند ججز لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر وکلا اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری طور پر موخر کرنے کا مطالبہ کیا۔
کراچی بار کے سیکرٹری جنرل غلام رحمان نے کہا کہ ہمارا احتجاج آئین کی بحالی کے لیے ہے، کیونکہ آج ججز سیاسی حمایت حاصل کر کے فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادی صحافت کے لیے بھی آواز بلند کر رہے ہیں اور پیکا ایکٹ جیسے کالے قوانین کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
رابعہ باجوہ نے کہا کہ شاہراہ دستور کو چھاؤنی نہیں بننے دیں گے، آج جوڈیشل کمیشن میں ملٹری بینچ بٹھایا گیا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا آئین اور قانون کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ،تہران پر حملے کی مذمت
- 7 hours ago
ٹی 20 ورلڈکپ: پاکستان کا سری لنکا کو جیت کیلئے 213 رنز کا ہدف
- 6 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
ایران کا اسرائیل و امریکہ کے خلاف ’فتح خیبر‘ آپریشن شروع، قطر اور بحرین پرمیزائل حملے
- 11 hours ago

سیمی فائنل کی دوڑ: پاکستان اور سری لنکا کے مابین ٹاکرا آج ہو گا
- 11 hours ago

سونے کی آج پھرلمبی چھلانگ،فی تولہ کئی ہزار روپے مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- 11 hours ago

صوبائی حکومت نے بنوں میں ڈرون کے استعمال اور رکھنے پر پابندی عائدکر دی
- 12 hours ago

امریکی واسرئیلی حملوں کے بعد ایران کی سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور بحرین پر میزائل حملے
- 8 hours ago

ایران ،اسرائیل کشیدگی کے پیش نظر پی آئی اے نے مشرقِ وسطیٰ کیلئے پروازیں معطل کر دیں
- 8 hours ago

ایران پرامریکی و اسرائیلی حملہ،پاکستانی شہریوں کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری
- 11 hours ago

ایران کی میزائل اور بحری طاقت کو نیست و نابود کر دیں گے، امریکی صدر کی دھمکی
- 11 hours ago

صہیونی سفاکیت کی انتہا:گرلز پرائمری اسکول پر اسرائیلی حملے میں 51 افراد جاں بحق،درجنوں زخمی
- 6 hours ago

ایران نے جوابی حملہ کر دیا، اسرائیل کے متعدد علاقوں میں سائرن کی آوازیں
- 11 hours ago




