وزیراعظم دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں،کشیدگی کا سفارتی حل نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،وزیر قانون
زیادہ ویوز لینے کے چکر میں بھیڑ چال چلی جا رہی ہے، مسلم ممالک سمجھتے ہیں شاید یہ ریاست کی پالیسی ہے، خارجہ پالیسی کومقامی سیاست کی نذر نہ کریں، عطا تارڑ


اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور دفاعی سٹیٹ ہے، خطے میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو لے کر وزیر اعظم دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں تا کہ سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ خطے میں صورتحال کشیدہ ہے، پاکستان کا اپنے دفاع اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے واضح مؤقف ہے، موجودہ صورتحال کے باعث پوری دنیا گہری تشویش میں مبتلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاملے کا سفارتی حل نکالنے کی کوشش کی ہے، سلامتی کونسل میں پاکستان نے اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق بحث سے اجتناب کیا جائے، پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے مناسب نہیں اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو کارروائی کی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں، خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے دورہ روس ملتوی کیا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں اور اسلام، سلامتی اور قومی سکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے، ریڈ لائن کراس ہوگی تو قانون حرکت میں آئے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے کہا کہ زیادہ ویوز لینے کے چکر میں بھیڑ چال چلی جا رہی ہے، مسلم ممالک سمجھتے ہیں شاید یہ ریاست کی پالیسی ہے، خارجہ پالیسی کومقامی سیاست کی نذر نہ کریں، خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں جبکہ خارجہ پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ میرا حلف اور آئین مجھے دفتر خارجہ کے مؤقف کے مطابق بات کرنے کا پابند بناتا ہے جبکہ ذاتی پسند، ناپسند یا سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر تبصرہ مناسب نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں ہماری میڈیا پر کی گئی بات کو ریاستی پالیسی سمجھا جاتا ہے، اس لیے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصرے میں احتیاط ضروری ہے، تاہم مقامی سیاست پر تنقید کی گنجائش موجود ہے۔

اسحاق ڈار کا کینڈین وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے میں امن اور استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 13 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 13 گھنٹے قبل

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے امتحانات ملتوی، کلاسز آن لائن ہونگی
- ایک دن قبل

ٹرمپ نے نیتن یاہو کے کہنے پر امریکی فوجیوں کو جنگ میں دھکیلا،کملا ہیرس کا الزام
- ایک دن قبل

ٹرمپ یا کسی اور کو حق نہیں کہ وہ ایران کو پرامن جوہری حقوق سے محروم کرنے کی بات کرے،صدر پزشکیان
- 13 گھنٹے قبل

جے ڈی وینس ایران کیساتھ مذاکرات کیلئے اسلام آباد جائیں گے،وائٹ ہاؤس
- 13 گھنٹے قبل
ننگرہار سے آواز: افغان شہری کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مدد کی اپیل، ویڈیو وائرل
- 14 گھنٹے قبل

سمارٹ لاک ڈاون کے باعث لاہور کے تھیٹرز کے اوقات کار تبدیل کر دئیے گئے
- 13 گھنٹے قبل

جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تب تک ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا،ایران
- ایک دن قبل

کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئےخیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں الرٹ جاری
- ایک دن قبل

وزیر مملکت برائے خزانہ نے ڈیزل کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی کا عندیہ دے دیا
- ایک دن قبل

ایران سے مذاکرات کیلئے امریکی نمائندے کل اسلام آباد پہنچیں گے،صدر ٹرمپ
- 14 گھنٹے قبل











