Advertisement
پاکستان

وفاقی حکومت کا کسانوں کو 300ارب کے بلاسود قرضے دینے کا اعلان 

کسان رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کھاد کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور زرعی شعبے کے لیے مزید عملی ریلیف اقدامات کیے جائیں تاکہ ملکی زرعی پیداوار متاثر نہ ہو

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 months ago پر Jun 14th 2026, 7:55 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
وفاقی حکومت کا کسانوں کو 300ارب کے بلاسود قرضے دینے کا اعلان 

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں زرعی شعبے کی معاونت اور چھوٹے کاشتکاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے “زرخیز اسکیم” کے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس اسکیم کے تحت ملک بھر کے تقریباً ساڑھے 7 لاکھ چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے دیئے جائیں گے تاکہ زرعی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے اور کسانوں کے مالی مسائل میں کمی آئے۔

جاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے زرعی مشینری پر 5 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے جبکہ 12 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔جبکہ کھاد کی قیمتوں میں استحکام اور کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے کھاد تیار کرنے والی فیکٹریوں کے لیے 20 ارب روپے کا خصوصی پیکیج بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

اسی طرح زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے 20 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کے لیے 3 ارب روپے جبکہ وزیر اعظم یوتھ بزنس اور زرعی پروگرام کے لیے 20 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

دوسری جانب ملک بھر کے کاشتکاروں نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے کو درپیش مسائل کا خاطر خواہ حل پیش نہیں کیا گیا۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 کسان رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کھاد کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور زرعی شعبے کے لیے مزید عملی ریلیف اقدامات کیے جائیں تاکہ ملکی زرعی پیداوار متاثر نہ ہو۔

Advertisement
Advertisement