Advertisement

ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق

یوکرین کے صدر کا روسی آئل ریفائنریوں پر کامیاب حملوں کا دعویٰ، روس نے واقعے کو سمندری قزاقی قرار دے دیا

GNN Web Desk
شائع شدہ an hour ago پر Aug 1st 2026, 7:29 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق

کیف/ماسکو: یوکرین نے بحیرۂ اسود میں ڈرون حملے کے ذریعے روسی کمپنی کی ملکیت ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ روسی سرکاری جوہری توانائی کمپنی روس ایٹم کے مطابق جہاز پر سوار تمام 17 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے ہفتے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرینی افواج نے رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران روس کے علاقے باشکورتوستان میں واقع تین اہم آئل ریفائنریوں کے بنیادی ڈھانچے کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

زیلنسکی کے مطابق یہ ریفائنریاں سالانہ لاکھوں ٹن خام تیل پراسیس کرتی ہیں اور یوکرینی افواج نے تقریباً 1,600 کلومیٹر دور واقع اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جو یوکرین کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت کا مظہر ہے۔

انہوں نے بحیرۂ اسود میں روسی پرچم تلے چلنے والے اور پابندیوں کی فہرست میں شامل 'یانینا' نامی کارگو جہاز کے غرق ہونے کی اطلاعات کی بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ اسود اور بحیرۂ آزوف میں روسی فوجی و لاجسٹک اہداف پر مزید کامیاب حملے بھی کیے۔ ان کے بقول یوکرین صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جو روس کی جنگی صلاحیت کو تقویت فراہم کرتی ہیں۔

دوسری جانب روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی روس ایٹم نے اس حملے کو "سمندری قزاقی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ نووروسیسک بندرگاہ کے قریب اس کے شپنگ ادارے فیسکو کے زیر انتظام چلنے والے کارگو جہاز 'یانینا' پر کم از کم دو یوکرینی ڈرونز نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں جہاز ڈوب گیا، تاہم تمام 17 عملہ بحفاظت نکال لیا گیا۔ روسی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

 
 
 
 
Advertisement