اسلام آباد : نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا ہے کہ چئیرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع غیر قانونی ہے۔


تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر مسلم لیگ مریم نواز کا کہنا تھا کہ توسیع کا مطلب چئیرمین نیب کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا ہے ۔ میں اور میرے والد پانامہ کیس میں اڈیالہ جیل میں رہے، اس سزا کے بعد کچھ ایسے حقائق میرے سامنے آئے، سپریم جوڈیشل کونسل میں انہوں نے دستخط کے ساتھ بیان حلفی جمع کرایا جو قوم کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں ۔انہوں نے کہاکہ نیب کا قانون یہ کہتا ہے کہ اگر کسی کے خلاف کوئی ریفرنس آتا ہے،تو نیب کا چیئرمین اس ریفرنس کو دیکھتا ہے ، میٹنگ ہوتی ہے، لیکن میرے اور میاں صاحب کے کیس میں نیب نے ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کی،کیونکہ اوپر سے آرڈر تھے اور انہوں نے بغیر کچھ دیکھے ریفرنس درج کر لیے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ اگر ہمیں ضمانت مل جاتی تو ان کی 2 سال کی محنت ضائع ہوجاتی، ان کی 2 سال کی محنت یہ تھی کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو پاناما کیس میں جے آئی ٹی میں پیش کیا جائے، اس کے بعد انہیں پاناما کے بجائے اقامہ پر نکال دیا گیا، پھر ان کے رہنماؤں کو مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنے کا کہا گیا اور جنہوں نے بات نہیں مانی انہیں سزا دی گئی اور ان کے خلاف بھی کیسز بنائے گئے ۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل د و رکنی بینچ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔سماعت کے دوران مریم نواز اور محمد صفدر نے عدالت میں حاضری مکمل کرائی جبکہ مریم نواز کی جانب سے ان کے وکیل عرفا ن قادر عدالت میں پیش ہوئے ۔ بعد ازاں عدالت کی جانب سے اپیلوں پر سماعت 13اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر رکھی ہے جبکہ عدالت عالیہ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر 2 اعتراضات اٹھادیئے ہیں۔
العزیزیہ ریفرنس:
العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس سعودی عرب میں 2001 میں جلاوطنی کے دوران نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے قائم کی جس کے بعد 2005 میں ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کمپنی قائم کی گئی۔نیب نے اپنے ریفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ اسٹیل ملز کے قیام اور ہل میٹل کمپنی کے اصل مالک نواز شریف تھے جب کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ نواز شریف نے ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کمپنی سے بطور گفٹ 97 فیصد فوائد حاصل کیے۔
فلیگ شپ ریفرنس:
فلیگ شپ ریفرنسز نواز شریف کی آف شور کمپنیوں سے متعلق ہے اور انہی کمپنیوں میں ایک کمپنی 'کیپٹل ایف زیڈ ای' تھی جس میں نواز شریف کمپنی کے چیئرمین تھے۔اسی کمپنی کی چیئرمین شپ کو بنیاد بناتے ہوئے سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔اس ریفرنس میں بھی نیب کی جانب سے الزام تھا کہ فلیگ شپ کمپنیوں کے اصل فوائد نواز شریف لے رہے تھے اور وہی ان کمپنیوں کے مالک ہیں۔
ایون فیلڈ ریفرنس:
ایون فیلڈ ریفرنس لندن میں شریف خاندان کے فلیٹوں سے متعلق تھا جس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید و جرمانے کی سزا سنائی تھی جسے بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کیا۔

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 3 دن قبل
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- ایک دن قبل

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- 18 گھنٹے قبل

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 17 گھنٹے قبل
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 17 گھنٹے قبل

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- ایک دن قبل
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- ایک دن قبل
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 3 دن قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 3 دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 3 دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 2 دن قبل
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- 18 گھنٹے قبل



