اے ایس آئی عمران کے خلاف اغوا، زیادتی اور کوششِ زیادتی کی دفعات شامل کرنے کا فیصلہ


عدنان بھٹی سے
لاہور: تھانہ غازی آباد کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) عمران کی جانب سے ایک لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ ابتدائی تفتیش میں پولیس اہلکار کے مبینہ طور پر بھکاریوں سے رقم وصول کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اے ایس آئی عمران مبینہ طور پر بھکاری لڑکی سے بھیک کی رقم اکٹھی کرتا تھا اور لڑکی کے والد کو اس بات پر رنج تھا کہ اس کی بیٹی سے اے ایس آئی زیادہ رقم لے جاتا تھا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اے ایس آئی عمران نے لڑکی کو مبینہ طور پر تھانے لے جا کر ہراساں کیا۔
پولیس کے مطابق لڑکی کی تلاشی لینے کے بہانے اے ایس آئی نے مبینہ طور پر اس کے جسم کے مختلف حصوں کو چھوا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں اے ایس آئی کا کردار مشکوک اور غیر مناسب سامنے آیا ہے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید کے مطابق اے ایس آئی عمران اس سے قبل بھی مختلف مقامات سے بھکاریوں سے رقم اکٹھی کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق واقعے میں زیادتی کے الزام پر حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا اور اصل حقائق فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گے۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں اغوا اور زیادتی سے متعلق دفعہ 376 کے بعد دفعہ 511 بھی شامل کی جا رہی ہے، جو جرم کی کوشش سے متعلق ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی عمران انویسٹی گیشن ونگ میں تعینات تھا، اس لیے کسی مقدمے کے بغیر لڑکی کو تھانے لانے کا معاملہ بھی تفتیش کا اہم حصہ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اہلکار کسی بھکاری کو بھیک مانگنے کے الزام میں تھانے لاتا تو معاملہ مختلف ہوتا، تاہم ایسی صورت میں بھی خواتین کی تلاشی اور دیگر کارروائی کے لیے لیڈی کانسٹیبل کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ انویسٹی گیشن ونگ کے اہلکار کی جانب سے لڑکی کو موٹر سائیکل پر تھانے لانا بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے کہا کہ لڑکی کا باپ گورکن ہے بیٹی تھانے سے آنے کے بعد باپ کو ملی مگر اسکا والد بیٹی کو کرائے کے رکشہ میں سڑکوں پر گھماتا رہا اور الزام لگایا کہ نو گھنٹے غائب رہی، انکوائری مکمل ہونے کے بعد ملزم کے خلاف چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

واقعے کا ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے سخت نوٹس لیتے ہوئے غازی آباد تھانے کے تمام 78 اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق اے ایس آئی عمران لڑکی کو بغیر کسی واضح وجہ کے موٹر سائیکل پر تھانے لایا، جہاں وہ تقریباً 20 سے 25 منٹ تک پولیس کی تحویل میں رہی، لیکن کسی اہلکار نے واقعے کی اطلاع نہیں دی اور نہ ہی یہ پوچھا کہ لڑکی کو کس مقدمے میں تھانے لایا گیا ہے۔
فیصل کامران نے کہا کہ واقعے میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے غیر ذمہ داری اور غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، جس پر کارروائی ضروری تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر لڑکی سے زیادتی ثابت نہ ہوئی تو معطل کیے گئے اہلکاروں کو بحال کر دیا جائے گا۔

اسٹیج اداکار عابد چارلی کا سرکاری سطح پرعلاج شروع، میڈیکل بورڈ بنا دیا گیا
- 2 دن قبل

ٹرمپ کا شی جن پنگ کا غیر معمولی استقبال
- 2 دن قبل

مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر نجیب نقی آزاد کشمیر کے 25 ویں صدر منتخب ہوگئے
- 2 دن قبل

وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی کشیدگی کے حل کیلئے مکالمے، سفارتکاری کی اہمیت پر زور
- 18 گھنٹے قبل

'ہم مشہور ہورہے ہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے'، اداکار گوندا کا ردعمل
- 16 گھنٹے قبل
وزارت اطلاعات نےافغان وزارتِ دفاع کا اسپن بولدک کے قریب پاکستانی چوکی تباہ کرنے کا دعویٰ من گھڑت قرار دیا
- 12 گھنٹے قبل

پانچواں روز: ملک میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
- 2 دن قبل

نئے صوبوں کی تعداد پر بحث ہونی چاہیے، صدر ینگ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن
- 2 دن قبل

ایشین گیمز: اسکواش ایونٹ میں پاکستان کے عاصم اور مہوش علی کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
- 2 دن قبل

بہاولپور:اپنے باپ کو زہر دینےکیلئے اے آئی سے طریقہ پوچھنے والا 17 سال کا نوجوان گرفتار
- 3 دن قبل
حوثی حملے: سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ کے فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب
- 18 گھنٹے قبل

پاکستان: مسلسل کمی کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ
- 17 گھنٹے قبل








