جی این این سوشل

ایک بار پھر خطرناک وائرس کی تصدیق

901 لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھی ہے

جی این این میں ویڈیو ڈیسک آپ کو روزانہ کی تازہ ترین سرخیاں ، شوز ، پروگرام ، ایونٹس اور بہت کچھ فراہم کرے گا جب آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

دنیا

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو، ریاض المالکی

Published by Nouman Haider

پر شائع ہوا

کی طرف سے

فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بڑے کھلے الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ماسکو میں فلسطینی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کسی معجزے کا امکان نہیں ہے، جس کے تحت اگلی حکومت میں حماس بھی شامل ہو سکتی ہو۔ کیونکہ اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا حماس کو بھی اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ وہ اگلی حکومت کا حصہ نہیں بن سکے گی۔ اب ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی ضرورت ہے۔ ٹیکنو کریٹس کی ایسی حکومت جو کسی ایسے گروپ کے بغیر ہو جو اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی تلخ جنگ لڑ رہا ہو، یہ وقت ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کا نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں حماس کی شمولیت کی وجہ سے بہت سے ملک ہماری حکومت کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔

ریاض المالکی نے مزید کہا  ہم نہیں چاہتے کہ دوبارہ وہی صورت حال بن جائے ، ہم دنیا کے لیے قابل قبول بننا چاہتے ہیں تاکہ ہم دنیا کے ساتھ مل کر کام کر سکیں ۔  ہم کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہے کہ ماسکو میں کوئی معجزہ ہو جائے گا۔

واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے پیر کے روز اپنی حکومت سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر صدر محمود عباس نے اگلی حکومت کی تشکیل تک انہیں اور ان کی حکومت کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی دنیا کی بڑی طاقتوں اور اسرائیل کے انداز میں سوچتی ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی نئی حکومت بننی چاہیے جو غزہ اور رام اللہ دونوں کا کنٹرول رکھتی ہو۔

تاہم ریاض المالکی نے کہا  ہماری اس وقت ترجیح یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمارے ساتھ جڑی رہے تاکہ فلسطینیوں کو ہنگامی طور پر ریلیف ملتا رہا اور پھر دیکھا جا سکے کہ غزہ کی تعمیر نو کیسے کرنی ہے۔ ہاں بعد ازاں جب صورت حال بہتر ہو گی تو ہم اور طرح سوچ سکتے ہیں۔ مگر ابھی ہمیں درپیش مسئلے سے نکلنا ہے۔ کہ اس پاگل جنگ کو کیسے روکیں فلسطینی عوام کا تحفظ کیسے کریں۔'

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ حماس سمجھتی ہو گی کہ اسے حکومت کا حصہ کیوں نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے تصور کی حماس بھی حمایت کرے گی۔ ایک ایسی حکومت جو ماہرین پر مشتمل ہو۔ جس میں ایسے افراد شامل ہوں جو ان حالات میں باگ دوڑ سنبھالنے اور ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں کہ یہ ایک مشکل ترین وقت ہے۔ ہمیں اس میں قابل قبول عبوری حکومت بنا کر انتخابات کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

نیپراکا نئے میٹر کنکشن کی سکیورٹی فیس میں اضافے کا فیصلہ

تقسیم کار کمپنیوں نے نئے میٹر کنکشن کی سیکیورٹی فیس گھریلو صارفین کیلئے1220 روپے سے بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنےکی درخواست کی ہے

Published by Nouman Haider

پر شائع ہوا

کی طرف سے

نیشنل الیکڑیک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نئے میٹر کنکشن کی سکیورٹی فیس میں اضافے کا فیصلہ کرلیا۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا میں درخواست دائر کی ہے جس میں  نئے میٹر کنکشن کی سیکیورٹی فیس گھریلو صارفین کیلئے1220 روپے سے بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنےکی درخواست کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ  10 کلو واٹ سے کم لوڈ والے صارفین کو 20 ہزار روپے فی کلوٹ واٹ ادائیگی کرنا ہو گی ، ،سنگل فیز میٹر پر کنکشن کیلئے صارفین کو 24 ہزار روپے تک ادا ئیگی کرنا پڑے گی۔

اسی طرح  دیہی علاقوں میں سیکیورٹی فیس 610 روپے سے بڑھا کر 7800 فروپے فی کلو واٹ کرنے، 10 مرلہ سے زائد اراضی کے حامل صارفین کو پراپرٹی ریٹ کا ایک فیصد ادا کرنا پڑے گا۔وزارت پاور ڈویژن نے تین ماہ کے بلوں کے مطابق سیکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیپرا میں سماعت کے بعد سیکیورٹی فیس بڑھا کر ڈیمانڈ نوٹسز کا اجراء کیا جائے گا، کمرشل اور صنعتی صارفین کیلئے بھی سیکیورٹی فیس میں اضافہ کیا جائے گا، کمرشل ، چھوٹی صنعت کی فیس 2010 روپے سے بڑھا کر 57 ہزار روپے فی کلوواٹ کرنے کی درخواست  کی گئی ہے جبکہ صنعتی سٹریٹ لائٹس ہاوسنگ سوسائٹیز کیلئے بھی سیکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ  بھی ہواہے۔

اس سے قبل جولائی 2023 میں بھی کنکشن فیس بڑھائی جا چکی ہے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسمبلی میں ہر دن گزرنے کے ساتھ ہمارا احتجاج شدت اختیار کرے گا، شیر افضل مروت

آج ہم نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مینڈیٹ پر ڈاکے کے خلاف آواذ اٹھائی اور احتجاج کیا، رہنما پی ٹی آئی

Published by Nouman Haider

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مینڈیٹ پر ڈاکے کے خلاف ہم نے آواذ اٹھائی اور احتجاج کیا۔ابھی یہ شروعات ہے، ہر دن گزرنے کے ساتھ ہمارا احتجاج شدت اختیار کرے گا۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلف برداری سے پہلے ہم نے قانون کی حکمارنی کی بدترین پامالیاں، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سیاسی اسیران کی ناجائز نظر بندی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مینڈیٹ پر ڈاکے کے خلاف ہم نے آواذ اٹھائی اور احتجاج کیا۔ابھی یہ شروعات ہے، ہر دن گزرنے کے ساتھ ہمارا احتجاج شدت اختیار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں انہوں نے قوم کے ساتھ جو ظلم و جبر کیا ہے، انتخابات میں دھاندلی کی، ہمارے لوگوں کو اغواء کیا، ہمارے کاغذات چھینے، ہمارا انتخابی نشان چھینا،ان دو سالوں کا انتقام ہر اسمبلی میں لیا جائے گا، ہر ظلم کا بدلہ لیں گے، اب وہ وقت نہیں کہ لوگ اٹھائیں تو چپ ہو جائیں، جو ادارہ ہمارے خلاف کارروائی کرے گا ہم نام لے کر بات کریں گے۔

شیر افضل مروت نےکہا کہ اب زبردستی وافاداریاں تبدیل کروانا، مینڈیٹ چوری کروانا بند کیا جائے, آپ تو ہمارے ہاتھ پاوں باندھ کر پولنگ بوتھ لے گئے 9مئ میں دہشت گرد بھی کہا لیکن عوام نے ہمیں دوتہائی سے زیاد ووٹ دیا،مینڈیٹ کا احترام نہ کر کے پاکستان کی سالمیت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا خان صاحب نے بڑا واضع کہا ہے کہ ہماری اصل جنگ آج سے شروع ہوئی ہے

انہوں نے کہا کہ ہم اس دن کا انتظار کر رہے تھے کہ ہم ایوان میں جائیں، آپ نے ہمیں 9 مئی کا دہشتگرد کہا، عوام نے دو تہائی سے جتوایا، اس وقت سارا نظام عدل داؤ پر لگایا ہوا ہے۔ہماری اصل جنگ آج سے شروع ہے، ہم بے گناہ اسیروں اور نا انصافیوں پر چپ نہیں رہیں گے، اب ہم تمام اسمبلیوں میں ان لوگوں کے خلاف احتجاج کریں گے۔ لوگوں کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کرنا بند کرنا ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll