Advertisement
پاکستان

او آئی سی اجلاس: پاکستان نے افغانستان کیلئے حکمت عملی جاری کر دی

اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا افغانستان کی صورت حال پر غیر معمولی اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Dec 19th 2021, 7:19 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
او آئی سی اجلاس: پاکستان نے افغانستان  کیلئے حکمت عملی جاری کر دی

پاکستان نے او آئی سی رکن ممالک کو افغان عوام کی مدد کے لیے  حکمت عملی جاری کر دی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے پیش کردہ نکات کے مطابق او آئی سی ممالک کو فوری طور پر افغان عوام کی مدد کرنا ہوگی۔ 

پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں تعلیم، صحت اور تکنیکی شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کا گروپ بناکر افغانستان کو جائز بینکنگ سہولیات تک رسائی میں مدد دینی ہو گی۔ 
 
جاری حکمت عملی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان عوام کی خوراک کی فراہمی اور فوڈ سکیورٹی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، انسداد دہشتگردی و منشیات کے خاتمے کے لیے افغان اداروں کی استعداد کار بڑھائی جائے۔

نکات کے مطابق افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین و لڑکیوں کے حقوق کے لیے افغان حکام کو انگیج کیا جائے، اس کے علاوہ افغانستان میں دہشتگردی کی روک تھام کیلئے افغان حکام سے مل کر کام کیا جائے۔

 

 

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان 40 سال خانہ جنگی کا شکار رہا ہے اور افغانستان کی بیرونی امداد بند ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا ہےکہ جتنی مشکلات افغان عوام نے اٹھائیں کسی اور ملک کے عوام نے نہیں اٹھائیں اور افغانستان کے 4 کروڑ عوام کو بحران کا سامنا ہے جبکہ افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے اور دنیا کو افغان ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا بینکنگ نظام جمود کا شکار ہے اور اگر اس وقت دنیا نے افغانستان کی مدد نہ کی تو یہ انسانوں کا پیدا کردہ بہت بڑا بحران ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آ رہی ہے اور اس وقت افغانستان کی صورتحال انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ افغان عوام کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ افغان مسئلے پر دنیا کی خاموشی قابل افسوس ہے۔

Advertisement