آج نوے کی سیاست کو دہرایا جا رہا ہے، اسی طرز سیاست کے خلاف میثاق جمہوریت لایا گیا تھا، میثاق جمہوریت میں کچھ اصول طے کیے گئے تھے۔


اسلام آباد : ہر ممبر باوقار لوگوں کا چنا ہوا ہے اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق اپنے فیصلے کرنے کا پابند ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اہم بیان سامنے آگیا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ان توقعات کو ذہن میں رکھنا ہو گا جو حلقے کی عوام نے منتخب کرتے ہوئے، آپ سے وابستہ کیں، آج نوے کی سیاست کو دہرایا جا رہا ہے، اسی طرز سیاست کے خلاف میثاق جمہوریت لایا گیا تھا، میثاق جمہوریت میں کچھ اصول طے کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ میثاق جمہوریت کی روح کے منافی ہے، پارلیمنٹ کے محافظوں کے ہاتھوں اگر پارلیمنٹ کو نقصان پہنچے تو یہی کہا جائے گا کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے، کراچی میں گورنر راج کی تجویز کے حق میں نہیں ہوں، آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس ہے میں ماضی کے تجربات کی روشنی میں وہاں بھی اپنا نقطہ نظر پیش کروں گا۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ 22 مارچ کو اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی پاکستان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے، میں اس حوالے سے کافی عرصہ سے تگ و دو میں مصروف ہوں، نیامے میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے سنتالیسویں اجلاس میں ہمیں دو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، ایک کامیابی یہ حاصل ہوئی کہ ہم نے قائل کرلیا کہ اگلے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
دوسری کامیابی اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنے کے حوالے سے متفقہ قرارداد کی منظوری تھی، وہ قرارداد ہم نے اقوام متحدہ بھجوائ جو الحمد للہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے بھی منظور ہو چکی ہے، اب او آئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ پاکستان تشریف لا رہے ہیں وہ پچھترویں یوم پاکستان پریڈ میں بھی شرکت کریں گے۔
بھارت کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہبھارت نے تاحال اس مبینہ “حادثاتی میزائل فائر” کا تسلی بخش جواب نہیں دیا، افغانستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، یوکرین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث، آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے معیشت پر بوجھ مزید بڑھے گا، ان حالات میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا، نہ جمہوریت کے مفاد میں ہے، نہ معیشت کے مفاد میں ہے اور نہ ہی پاکستان کی عوام کے مفاد میں ہے۔
وہ لوگ جو اقتدار کی ہوس کیلئے ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں انہیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 2 دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 2 دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 3 دن قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 3 دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 14 گھنٹے قبل
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 2 دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- 3 دن قبل
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ
- 2 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- 2 دن قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 2 دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 3 دن قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 3 دن قبل
