جی این این سوشل

پاکستان

وزیراعظم لندن سے پاکستان کیلئے روانہ، اسحاق ڈار بھی اُن کے ہمراہ پاکستان پہنچیں گے

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف لندن سے پاکستان کیلئے روانہ ہو گئے ، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کیساتھ پاکستان پہنچیں گے ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیراعظم لندن سے پاکستان کیلئے روانہ، اسحاق ڈار بھی اُن کے ہمراہ پاکستان پہنچیں گے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق وزیراعظم مکمل پروٹوکول میں لوٹن ایئرپورٹ روانہ ہوئے ، شہباز شریف نے قیام کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت لیگی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں ۔ شہباز شریف دو روز قبل امریکہ سے لندن پہنچے تھے ۔

واضح رہے کہ اسحاق ڈار پانچ سال بعد لندن سے پاکستان پہنچیں گے ۔ منگل کو بطور ممبر سینیٹ کے ساتھ حلف اٹھائیں گے ، نواز شریف نے اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ کیلئے نامزد کیا ہے ،

مفتاح اسماعیل آج اپنا باضابطہ استعفیٰ پیش کریں گے ۔ مسلم لیگ ن کے قائد نے مشکل ترین حالات میں ذمہ داریاں نبھانے پر مفتاح اسماعیل کی کوششوں کو سراہا ۔

پاکستان

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے، حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی۔

حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ کے ہوشربا اعدادو شمار سامنے آ گئے، مہنگائی کے اس دور میں بجلی کی تقسیم کار آزاد کمپنیاں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ نے عوام کا خون نچوڑ لیا۔

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی، مجموعی طور پر آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں۔

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑتے ہیں اور حکومت ایسا ہی کرتی آرہی ہے۔ گزشتہ سال آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں، یعنی بجلی خریدے بغیر 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی گئی۔ آئی پی پیز کو کی گئی کل ادائیگیوں میں 38 فیصد پیداواری لاگت آئی اور 62 فیصد کپیسٹی پیمنٹ کا انکشاف ہوا۔

افسر شاہی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ 85 فیصد آئی پی پیز کی پیداوار 50 فیصد سے کم مگر ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں، صرف زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پاور پلانٹس کو ایک سال میں 46 ارب 40 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔حکومت کو جانب سے جنہیں بھر پور انداز میں نوازا گیا ان زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پلانٹس میں حبکو، کیپکو، ایچ سی پی سی شامل ہیں۔

4 فیصد پلانٹ فیکٹر رکھنے والے ایک پلانٹ کو 7 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی، 8 فیصد پیداوار والے نندی پور پلانٹ کو 15 ارب روپے جبکہ گنجائش سے 25 فیصد کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 568 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔اسی طرح 25 سے 83 فیصد تک بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 1314 ارب روپے، چائنا پاور حب جنریشن کمپنی کو 9 ماہ میں 103 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی گئی۔

چینی کمپنی نے 5 ماہ سے کوئی بجلی پیدا نہیں کی جبکہ 4 ماہ پیداوار 18 فیصد تک رہی، ہوانینگ شانڈنگ روئی انرجی کو 9 ماہ میں 95 ارب روپے ،پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کو83 ارب روپے، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ کمپنی کو26 ارب اور واپڈا ہائیڈل کو 76 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کی گئی، بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 10 ارب روپے سے نوازا گیا۔

وزارت توانائی نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حبکو کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ کی مدت مارچ 2027 کو ختم ہو جائے گی، حبکو کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔حکام کے مطابق حبکو پلانٹ فرنس آئل پر چلتا ہے، پلانٹ کو کوئلے پر چلانے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کیپکو نے 2022 میں اپنی 25 سال کی مدت مکمل کی، کیپکو کے ساتھ بجلی کی خرید و فروخت کے معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

9 مئی مقدمات، عمران خان پولی گرافک ٹیسٹ کرنے فرانزک ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی

ایف ایس اے کی ٹیم عمران خان سے کی گئی تفتیشی پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

9 مئی مقدمات، عمران خان  پولی گرافک ٹیسٹ کرنے فرانزک ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) کی 3 رکنی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی جو لاہور میں درج 9 مئی واقعات کی تفتیش کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کا پہلی مرتبہ پولی گرافک ٹیسٹ کرے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایف ایس اے ٹیم میں وقاص خالد، عابد ایوب اور علی رضا شامل ہیں، پی ایف ایس اے کی ٹیم گیٹ 5 سے اڈیالہ جیل کے اندر روانہ ہو گئی ہے۔اڈیالہ جیل پہنچنے والوں میں ڈی ایس پی جاوید، انسپکٹر رانا اکمل، رانا ارحم اور عالم لنگڑیال شامل ہیں ، انسپکٹر رانا منیر، انسپکٹر محمد علی بھی اڈیالہ جیل پہنچنے والے افسران میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ لاہور پولیس کو عمران خان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل ہے۔ مذکورہ 3 رکنی پی ایف ایس اے کی ٹیم عمران خان سے کی گئی تفتیشی پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔ 15 جولائی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے 12 مقدمات میں عمران خان کا 10 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

عمران خان کا تھانہ سرور روڈ میں 5 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دیا گیا، جب کہ تھانہ گلبرگ کے تین مقدمات میں اور تھانہ ریس کورس، مغلپورہ، شادمان اور تھانہ ماڈل ٹاؤن کے 1،1 مقدمے میں جسمانی ریمانڈ دیا گیا۔عمران خان کے خلاف جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات بھی ہیں، پولیس نے بارہ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی پر اڈیالہ جیل میں ہی گرفتاری ڈالی تھی۔

پولیس گرافک ٹیسٹ کیا ہوتا ہے؟

پولی گراف ٹیسٹ یا جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ ایک ایسی مشین کی مدد سے کیا جاتا ہے جو انسان کے جسم میں پیدا ہونے والی مختلف طبعی تبدیلیوں کی مدد سے اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا وہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔

پولی گراف ٹیسٹ میں ملزم کے ہاتھوں کے ساتھ ایک مخصوص مشین کی تاریں لگا دی جاتی ہیں جو اس کے جسم کے افعال چیک کر کے انہیں ریکارڈ کرتی رہتی ہے۔ اس دوران ایک یا ایک سے زیادہ ماہر تفتیش کار ملزم سے سوال پوچھتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی مشین پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ ملزم کے جوابوں کے دوران مشین کیا دکھا رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت 4.7 ریکارڈ

زلزلے کی زیر زمین گہرائی 205 کلو میٹر تھی جبکہ مرکز ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت 4.7 ریکارڈ

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے تاہم اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

زلزہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی زیر زمین گہرائی 205 کلو میٹر تھی جبکہ مرکز ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔

یاد رہے کہ 18 جولائی کو بھی مانسہرہ، ایبٹ آباد اور سوات سمیت خیبر پختونخوا کے کئی شہروں اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll