جی این این سوشل

دنیا

دبئی میں رہائش سے متعلق نئی شرائط کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

کسی جگہ ایک ماہ سے زیادہ رہنے والے تمام مکینوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

دبئی میں رہائش سے متعلق نئی شرائط کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

دبئی میں رہائش سے متعلق نئی شرائط کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔ اماراتی میڈیا کے مطابق دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ (DLD) کی جانب سے رہائش کے حوالے سے نئے اصول کے بارے میں مزید تفصیلات بتائی گئی ہیں، جس کے تحت رہائشیوں کو رہائشی یونٹوں میں تمام ساتھیوں کو رجسٹر کرنے کی ضرورت ہوگی اور ایک یونٹ میں ایک ماہ یا اس سے زیادہ رہنے والے تمام شریک مکینوں رجسٹریشن بھی لازمی قرار دی گئی ہے، رجسٹریشن میں درج ذیل چیزیں شامل ہونی چاہئیں؛
>> شریک مقیم کا نام
>> ایمریٹس آئی ڈی 
>> پاسپورٹ نمبر (اگر شریک مقیم کے پاس ایمریٹس آئی ڈی نہ ہو)
دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ شریک مکین رجسٹریشن کو رہائشی دستاویز کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں لیکن اسے سرکاری لین دین کے لیے کرایہ داری کے معاہدے کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا جب کہ شریک مکینوں کی رجسٹریشن لازمی ہے تاہم کرایہ داری کے معاہدے میں ان کے تمام ناموں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی امارات میں رہنے والے تمام رہائشیوں کا ایک جامع شماریاتی ریکارڈ تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، اس کا مقصد شہریوں، رہائشیوں اور سیاحوں کی ابھرتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں حکومتی اداروں کی مدد کرنا ہے۔ قبل ازیں ایک نوٹیفکیشن میں اتھارٹی نے مالکان، ڈویلپرز، پراپرٹی مینجمنٹ کمپنیوں اور کرایہ داروں سے درخواست کی کہ وہ ملکیتی یا لیز پر دی گئی جائیدادوں میں شریک مکینوں کی تفصیلات فوری طور پر زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کے اندر رجسٹر کریں۔ 

اس حوالے سے رجسٹریشن Dubai REST ایپ پر ہوگی، جس کے لیے رہائشی لاگ ان کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے پاس کا استعمال کر سکتے ہیں، جہام ایک بار سائن ان ہونے کے بعد انہیں وہ پراپرٹی منتخب کرنی ہوگی جہاں وہ رہتے ہیں، اس کے بعد ‘co-occupants’ کو منتخب کریں،  ‘add more’ پر کلک کریں اور ان کی تفصیلات درج کریں، جب کہ کسی بھی شریک مقیم کو 'delete' آئیکن کو منتخب کر کے ہٹایا جا سکتا ہے۔

صحت

ایڈزسے بچاؤ اور آگاہی کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز (ایچ آئی وی )سے بچاؤ اور آگاہی کا دن آج منایا جارہا ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایڈزسے بچاؤ اور  آگاہی کا عالمی  دن آج منایا جارہا ہے

ایڈز کا عالمی دن دنیا میں پہلی مرتبہ 1987ء میں منایا گیا ، ا س  بیماری کا عالمی دن منانے کا مقصد اس انتہائی مہلک مرض کے بارے میں آگاہی دینا اور ایڈز سے بچاؤ سے متعلق حفاظتی احتیاطی تدابیر کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے ۔ 

اس حوالے سے  ماہرین طب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایڈز کے مریضوں میں کمی آرہی ہے لیکن پاکستان میں ایچ آئی وی وائرس میں ہولناک اضافہ ہورہا ہے۔

ملک میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 10 ہزار ہوگئی ہے، جنوری سے نومبر 2022 تک کراچی میں 970 مریض رپورٹ ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق کوئٹہ اور گوادر سمیت بلوچستان کے 6 اضلاع ہائی رسک قرار دیے گئے ہیں ۔

استعمال شدہ سرنج، غیرمحفوظ انتقال خون، اسکریننگ کے نامناسب انتظامات، جراثیم زدہ آلات جراحی، حجامت کے دوران آلودہ آلات اور غیرمحفوظ جنسی تعلقات ایچ آئی وی پھیلانے کا بڑا سبب ہیں۔

ایڈز کا مرض ایک وائرس ایچ آئی وی کے ذریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے تو مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف احتیاط ہی کے ذریعے اس بیماری سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

 ایک تحقیق کے مطابق ایچ آئی وی کا شکار ہونے کے چند دن بعد 85 فیصد افراد کو انفیکشن کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن کا بروقت علاج مرض کو جان لیوا ہونے سے بچا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز کا علاج بروقت تشخیص اور احتیاط کے ساتھ ساتھ مثبت رویہ اپنائے بغیر ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو اس مرض کے بارے میں شعور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 

وزیرداخلہ راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ساڑھے تین سال میں عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ بنایا۔عمران خان کو چاہیے تھا قوم سے معذرت کرتے اور واپس پارلیمنٹ میں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا۔

عمران خان نے خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی۔جلسوں میں ناکام ہوکے، تقریریں کر کے، اسمبلیاں توڑنا، آئین، قانون، جمہوری عمل کی توہین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے۔سنا ہے پی ٹی آئی والے 20 دسمبر سے استعفے دیں گے۔اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں ؟ عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں۔ اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی، جو بھی مسائل ہوں گے ان کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے۔جو بھی اس کو آئین کے تحت روکنے میں ہوسکتا ہے اس طرف جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ آئینی مدت پوری کریں گے۔

اسمبلیاں توڑنے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی  کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔پارلیمنٹ لاجز، گھر،گاڑیاں،تنخواہیں اور مراعات نہیں چھوڑتے اور شور مچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم الیکشن سے خوفزدہ نہیں ہیں۔کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ہم کمپین کریں گے، نواز شریف صاحب کمپین کے لیے میسر ہوں گے، یہ ان کی بھول ہے یہ جیت کے واپس آجائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

ڈالر کی آج بھی اونچی اڑان 

پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے ۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈالر کی آج بھی اونچی اڑان 

تفصیلات کے مطابق آج صبح کاروبار کے آغاز سے ہی امریکی ڈالر مزید مہنگا ہوا ہے ۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں  5 پیسے  اضافہ ہوا ہے ۔ 

انٹر بینک میں ڈالر 223.95 روپے سے بڑھ کر 224روپے پر پہنچ گیاہے ۔

گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر 223 روپے 95 پیسے پر بند ہوا تھا۔

دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج صبح کاروبار کا مثبت آغاز ہوا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 160 پوائنٹس کے اضافے سے 42509 ہو گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll