Advertisement
پاکستان

شہباز شریف کا صدر مملکت کے خط کا جواب

آپ کا خط تحریک انصاف کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم پاکستان

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Mar 26th 2023, 4:21 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
شہباز شریف کا صدر مملکت کے خط کا جواب

وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو پانچ صفحات اور سات نکات پر مشتمل جوابی خط لکھا ہے جس میں انہوں نے صدر مملکت کے خط کو تحریک اںصاف کی پریس ریلیز قرار دیا ہے۔

جوابی خط میں وزیراعظم نے کہا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط تحریک انصاف کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے جوکہ یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں۔ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی کی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا جبکہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔ آرٹیکل 91 کلاز5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے۔

جوابی خط میں وزیراعظم نے کہا کہ کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اپنے خط میں آپ نے جو لب و لہجہ استعمال کیا، اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاستدانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے۔ تمام افراد نے قانون کے مطابق دادرسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کروانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی، عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے لیکن یہ آزادی آئین اور قانون کی حدود قیود میں استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ جب پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تو آپ نے کبھی اِس بارے میں آواز بلند نہیں کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں اور پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی۔ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوششیں تیز کرچکی ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے۔ رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمشن معطل رہا، قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن نے 8 اکتوبر 2023 کو پنجاب میں انتخابات کروانے کی تاریخ دی ہے، تمام وفاقی اور صوبائی اداروں نے متعلقہ اطلاعات الیکشن کمشن کو مہیا کی ہیں۔ الیکشن کروانے کی ذمہ داری آئین نے الیکشن کمشن کو سونپی ہے اور الیکشن کمشن نے ہی طے کرنا ہے کہ شفاف و آزادانہ انتخاب کروانے کے لیے آرٹیکل 218 تین کے تحت سازگار ماحول موجود ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کر رہے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کو 24 مارچ کو خط لکھا تھا۔

Advertisement
کویت پر ایران کے حملے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

کویت پر ایران کے حملے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

  • 9 hours ago
اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

  • a day ago
پاکستان کی ترقی کا خواب: کیوں مطلوبہ جی ڈی پی شرح ناقابلِ حصول ہے؟

پاکستان کی ترقی کا خواب: کیوں مطلوبہ جی ڈی پی شرح ناقابلِ حصول ہے؟

  • 8 hours ago
سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کی کمی

سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کی کمی

  • 8 hours ago
معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے

معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے

  • a day ago
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

  • a day ago
آئی سی سی نے ون ڈے رینکنگ جاری کردی، بیٹرز رینکنگ میں بابراعظم چھٹے نمبر

آئی سی سی نے ون ڈے رینکنگ جاری کردی، بیٹرز رینکنگ میں بابراعظم چھٹے نمبر

  • 6 hours ago
ایران  جنگ کے نتیجے  میں  معاشی بحران پیدا ہوا، صرف پیپلزپارٹی ملک کے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے: بلاول

ایران جنگ کے نتیجے میں معاشی بحران پیدا ہوا، صرف پیپلزپارٹی ملک کے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے: بلاول

  • 21 hours ago
پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا

پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا

  • a day ago
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک

  • a day ago
لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار

  • 2 days ago
صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی

  • 2 days ago
Advertisement