Advertisement
پاکستان

حکومت میں سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر8 رکنی بینچ کے قیام کو مسترد

اس نوعیت کا اقدام پاکستان اور عدالت کی تاریخ میں اس سے قبل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا،اعلامیہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Apr 13th 2023, 3:13 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
حکومت میں سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر8 رکنی بینچ کے قیام کو مسترد

حکومت میں شامل جماعتوں نے سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر عدالت عظمیٰ کے 8 رکنی بینچ کے قیام کو مسترد کردیا۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ حکمران جماعتوں نے سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پرمتنازع بینچ تشکیل دینےکا اقدام مسترد کرتی ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کا اقدام پاکستان اور عدالت کی تاریخ میں اس سے قبل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ساکھ ختم کرنے، انصاف کے آئینی عمل کو بے معنی کرنے کے مترادف ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ کی تقسیم سے حکومت میں شامل جماعتوں کے مؤقف کی پھر تائید ہوئی، بلوچستان اورخیبرپختونخوا سےکوئی جج بینچ میں شامل نہ کرنابھی افسوسناک ہے، حکمران جماعتیں اس اقدام کو پارلیمان اور اس کے اختیار پر شب خون قرار دیتی ہیں، اس اقدام کی بھرپور مزاحمت کی جائے گیا۔

اعلامیے کے مطابق پارلیمان کا اختیار چھیننے اور اس کے دستوری دائرہ کار میں مداخلت کی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی، آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمان کے اختیار پر سمجھوتانہیں کیاجائے گا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متنازع بینچ کی تشکیل سے نیت اور ارادےکے علاوہ آنے والے فیصلےکا بھی واضح اظہار ہوجاتا ہے، بل کو سماعت کے لیے مقرر کرنے سے نیت اور ارادے کے علاوہ آنے والے فیصلے کا بھی واضح اظہار ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی ہیں۔

Advertisement