بیجنگ: (اے پی پی): چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کا مزید بڑھنا غیردانشمندانہ اقدام ہو گا اور ایک جامع جنگ بندی ضروری ہے۔
اردو نیوز کے مطابق انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک جامع جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے اور جنگ دوبارہ شروع ہونا غیر مناسب بات ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا جاری رہنا بہت اہم ہے۔ واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن منگل کی رات بیجنگ پہنچے تھے اور بدھ کوان کی چینی ہم منصب سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس دورے کو دنیا بھر میں بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے چند روز بعد ہوا ہے۔
روسی میڈیا پر جاری ہونے والی وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بدھ کی صبح بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کو بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اسی طرح سربراہی اجلاس کے بعد ان دونوں رہنماؤں کے درمیان شام کو بھی ملاقات ہو گی۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کا آخری دورہ ستمبر 2025 میں کیا تھا اور اس وقت تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کو 80 سال مکمل ہونے پر تقریب میں شرکت کے دوران فوجی پریڈ دیکھی اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت بھی کی تھی۔


















