Advertisement
پاکستان

ٹیکس وصولی میں اضافے تک ملکی معیشت کی بہتری ممکن نہیں،نگران وزیر اعظم

کاروباری برادری کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،انوار الحق کاکڑ

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Sep 7th 2023, 8:57 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ٹیکس وصولی میں اضافے تک ملکی معیشت کی بہتری ممکن نہیں،نگران وزیر اعظم

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان میں ٹیکس وصولی میں اضافہ نہیں ہوتا تب تک ملکی معیشت کی بہتری ممکن نہیں، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ملک بھر بالخصوص سرحدی علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، کاروباری برادری کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے اسلام آباد ایوان تجارت و صنعت کے وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں سیکرٹری کامرس، سیکرٹری صنعت، چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین سی ڈی اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری طبقہ کی تجاویز کا خیرمقدم کرتا ہوں،ان میں سے قابل عمل تجاویز پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرواتا ہوں، وزارت عظمی کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی کاروباری برادری سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری موجودہ ملکی معاشی حالات کے باوجود ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ٹیکس کے نظام میں اصلاحات یقینی بنا رہی ہے جس کے لئے ٹیکس کا نظام ڈیجٹلائز کیا جا رہا ہے، جب تک پاکستان میں ٹیکس وصولی میں اضافہ نہیں ہوتا تب تک ملکی معیشت کی بہتری ممکن نہیں، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ملک بھر بالخصوص سرحدی علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے گزشتہ 48 کے دوران کریک ڈائون کئے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، سمگلنگ کی روک تھام کا ہمسایہ ممالک کے حکام نے خیرمقدم کیا ہے، تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرکے ملکی معیشت کو مزید مستحکم کریں گے، بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، بجلی چوروں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر پوائنٹ آف سیلز کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے حوالے سے جلد رپورٹ پیش کی جائے، پاکستانی سفارتخانوں میں تعینات کمرشل اتاشیوں کی کارکردگی کو بہتر کیا جائے، سی ڈی اے کے نظام میں بہتری لائی جائے اور کاروباری برادری کو مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جائے، سی ڈی اے شہریوں کو فراہم کی جانے والی تمام سہولیات اور لینڈ ریکارڈ کو ڈیجٹلائز کرے۔ 

Advertisement