Advertisement
پاکستان

موجودہ صورتحال میں برین ڈرین کو روکنے کے لئے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ، صدر مملکت

کام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرکے پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد کی بیرون ممالک جانے کی تعداد میں کمی لائی جاسکتی ہے، ڈاکٹر عارف علوی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Oct 3rd 2023, 9:09 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
موجودہ صورتحال میں برین ڈرین کو روکنے کے لئے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ،  صدر مملکت

 صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں ڈاکٹروں ،نرسوں سمیت ہنر مند افراد کی ضروریات پوری کرنےپر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں برین ڈرین کو روکنے کے لئے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔

فاؤنڈیشن یونیورسٹی سکول آف ہیلتھ سائنسز کے شعبہ ڈینٹسٹ اور نرسنگ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسابقتی ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنا اور کام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرکے پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد کی بیرون ممالک جانے کی تعداد میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔ ملک نے اپنے وسائل ڈاکٹروں، انجینئرز اور دیگر پیشہ ورافراد پر لگائے، تاہم ہنر مند انسانی سرمائے سے اس طرح استفادہ نہیں کر پائے جس کے ے معیشت اور ترقیاتی نمو پر منفی اثر پڑتا رہا ۔

انہوں نے کہا کہ ہنر مند ڈاکٹروں کی بیرون ملک ملازمت کی ضرورت کو کم کرنے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ ان کے لیے ملک کے اندر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کیے جائیں۔ پاکستان کو صحت کی خدمات کے شعبے میں ضروریات سے نمٹنے کے لیے 9 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے لیکن اس وقت ہمارے پاس نرسوں کی تعداد 3 لاکھ ہے ۔ایف ایس سی (فیکلٹی آف سائنسز) پری میڈیکل کے صرف نو فیصد طلبا کو پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ ملا، جبکہ 25 فیصد اعداد و شمار ہمارے خطے کے ممالک کے ہیں ۔ اس صورتحال کو ایک حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ تعداد میں طلبا کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے مزید ادارے قائم کیے جائیں۔

صدر مملکت نے نشاندہی کی کہ وہ خواتین ڈاکٹر جنہوں نے اپنی فیملی کی زندگیوں میں توازن پیدا کرنے کی جدوجہد میں اپنے شعبوں کو خیرباد کہہ دیا وہ ملک کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشوں سے دور نہ ہوں اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ خواتین ڈاکٹروں کے لیے کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے سے پاک ماحول پیدا کرنا اور ان کی زچگی کے دوران چھٹی کے بعد پروڈیکٹویٹی میں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ۔

صدر مملکت نے میڈیکل گریجویٹس کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے ہمدردی اور مہربانی کی اقدار کو اپنائیں ۔ انہوں نے لوگوں کو متعدی بیماریوں اور منہ کی صفائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے علاج معالجے کی بجائے روک تھام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ 

Advertisement