Advertisement
پاکستان

پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس مل گیا

پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے بلے کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 10th 2024, 7:34 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس مل گیا

بلے کا انتخابی نشان، پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے بلے کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، عدالت نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمشین پی ٹی آئی کو سرٹیفکیٹ جاری کرے۔

اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کے انتخابی نشان سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت عالیہ کے جج جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشد علی نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت قاضی جواد ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے مؤکل نے پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر سے معلومات لینا چاہیں جو ان کو نہیں ملیں، میڈیا سے پتہ چلا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے، ہم نے درخواست کی کہ انتخابات کالعدم قرار دیئے جائیں، میرے مؤکل انتخابات میں حصہ لینا چاہتے تھے مگر انہیں موقع نہیں دیا گیا۔

جسٹس اعجاز انور نے سوال کیا کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائیں؟ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیئے تو آپ کو چاہیے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے، آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیے تھا آپ نے نہیں کیا۔

وکیل قاضی جواد نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا اس لیے ان کے خلاف الیکشن کمیشن گئے۔ 

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ پشاور میں پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے جو الیکشن کمیشن نے کالعدم قرار دیئے، پشاور ہائی کورٹ کو پٹیشن سننے کا اختیار کیسے نہیں ہے؟

قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ دائرہ اختیار کا سوال انتہائی اہم ہے، عدالتوں کے مختلف فیصلوں میں ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کا تعین ہوا ہے، پی ٹی آئی تو لاہور ہائی کورٹ بھی گئی، وہاں ان کی درخواست خارج ہوئی۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے لکھا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں یہ کیس زیر سماعت ہے، پشاور ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں۔

جسٹس ارشد علی نے سوال کیا کہ ایک مرتبہ شیڈول جاری ہو پھر کیسے انتخابی نشان کا فیصلہ ہو سکتا ہے، کیا سیاسی جماعت بغیر انتخابی نشان کے الیکشن لڑ سکتی ہے؟

دوران سماعت وکیل شکایت کنندہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ پی ٹی آئی لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کررہی ہے تو اپنے کارکنوں کو بھی یہ فیلڈ دے، پارٹی کے کارکنوں کو پتا نہیں تھا کہ الیکشن کہاں پر ہیں، پھر ایک بلبلہ اٹھا اور انٹرا پارٹی الیکشن ہوا۔

جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ پھر وہ بلبلہ بھی پھٹ گیا، یہاں پر کبھی کوئی تو کبھی کوئی لاڈلہ بن جاتا ہے، آپ سیاسی باتیں نہ کریں قانونی نقطے پر آ جائیں، آپ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ انٹراپارٹی الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے، ان سے نشان واپس لینا ٹھیک ہے۔

جس پر وکیل نے کہا کہ جو پارٹی قانون کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کراسکتی تو اس کو کیوں سپورٹ کروں؟ انتخابی نشان بدلتے رہتے ہیں، ہر الیکشن کے لیے نیا نشان بھی دیا جاسکتا ہے۔

بعدازاں عدالت نے درخواست گزاروں کے علاوہ الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Advertisement