Advertisement
پاکستان

دہشت گرد ہتھیار ڈالیں یا انجام بھگتیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پانچ برسوں میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، 2,084 مصدقہ دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ an hour ago پر Jul 31st 2026, 4:10 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
دہشت گرد ہتھیار ڈالیں یا انجام بھگتیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ پانچ برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کیے جا چکے ہیں، جبکہ دہشت گردوں کے لیے دو ہی راستے ہیں، یا وہ قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔

انسدادِ دہشت گردی اور قومی سلامتی سے متعلق پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں اب تک 31 ہزار سے زائد اور خیبرپختونخوا میں 7,177 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جو دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف ریاست کے بھرپور عزم کا مظہر ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال اب تک دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی طور پر 819 افراد شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان اور 322 شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے رواں سال اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 2,084 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ روزانہ اوسطاً 10 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران 28 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے بیشتر میں افغان شہری ملوث پائے گئے۔ ان کے بقول ٹانک اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں بھی افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کی طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہی ہے اور اس کی سفارتی حکمت عملی بھی دہشت گردی کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے دانستہ منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، ریاست صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کی راہ میں بعض بااثر اشرافیہ اور قبائلی سردار رکاوٹ بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ عام آدمی اور غریب خاندانوں کے بچے ترقی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی ترجیح بلوچستان کے عوام ہیں، نہ کہ مفاد پرست عناصر۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہیں۔ ان کے مطابق "ہارڈ اسٹیٹ" کا مطلب فوجی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کی بالادستی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست سے وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے کیونکہ "ریاست ہے تو سیاست ہے، اور پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری شناخت ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور ان کے سرپرست اب نرم اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ رواں سال اب تک 178 شہریوں کو شہید کیا جا چکا ہے، جبکہ 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا گیا اور 60 مقامات پر مختلف تنصیبات کو آگ لگائی گئی۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے ترقی دشمن ایجنڈے کا واضح ثبوت ہیں۔

 
 
 
 
Advertisement
Advertisement