Advertisement
پاکستان

ایران واقعہ پر ردعمل سوشل میڈیا دیکھ کر نہیں دینا، نگران وزیر اطلاعات

ردعمل کب اور کیسے دینا ہے یہ ذمہ داران طے کریں گے، مرتضیٰ سولنگی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 17th 2024, 9:45 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایران واقعہ پر ردعمل سوشل میڈیا دیکھ کر نہیں دینا، نگران وزیر اطلاعات

نگراں وفاقی وزیراطلاعات مرتضٰی سولنگی نے کہا ہے کہ ایران واقعہ پر ردعمل سوشل میڈیا دیکھ کر نہیں دینا، ردعمل کب اور کیسے دینا ہے یہ ذمہ داران طے کریں گے۔

نگراں وفاقی وزیراطلاعات مرتضٰی سولنگی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واقعہ پر رد عمل سوشل میڈیا کے تقاضوں پر نہیں دینا۔ یہ بچوں کا کھیل نہیں ریاستوں کے درمیان کا معاملہ ہے۔ردعمل کب اور کیسے دینا ہے یہ ذمہ داران طے کریں گے۔

نگران وزیراطلاعات نے کہا کہ ایران کا حملہ غیر معمولی واقعہ ہے۔ایران کی جانب سے خلاف ورزی پر سنجیدہ رد عمل آئے گا، اس رد عمل کا وقت اور نوعیت متعلقہ لوگ ہی طے کریں گے،سرحدی خلاف ورزیوں پر حکومتیں ہمیشہ دباٶ میں ہوتی ہیں لیکن سوچے سمجھے بغیر فیصلہ نہیں کرتیں، وزارت خارجہ نے رد عمل دیا اورایرانی ناظم الامور کو طلب کیا۔ یہ  ابتدائی رد عمل ہے مکمل ردعمل نہیں۔ متعلقہ حکام اس پر غور کر رہے ہیں۔

مرتضیٰ سولنگی کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اچھے برے معاملات آتے رہتے ہیں۔ ایران کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ملک میں کئی قسم کے بحران ہیں  ویژنری قیادت کی ضرورت ہے۔ دعا ہے کہ 8 فروری کو الیکشن کے بعد جو جماعت یا جماعتوں کا گروپ حکومت بنائے وہ سنجیدگی سے کام کرے۔ جو حکومت آئے وہ لوگوں کو جوڑے ، توڑے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک غیر معمولی تقسیم سے گزر رہا ہے۔ جمہوریت ، اظہار رائے کی آزادی کو خدشات ہیں۔ دہشت گردی نے سر اٹھایا ہے اور علاقائی ٹینشن ختم نہیں ہورہی ہے۔ ایک جماعت بتا دیں جس کو لیول پلینگ فیلڈ ملنے کی شکایت نہ ہو۔ن لیگ کو سندھ اور پیپلز پارٹی کو پنجاب میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کی شکایت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی ہی شکایات اے این پی، مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کو بھی ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کا دورہ افغانستان غیر سرکاری تھا۔ کوئی بھی جماعت دو ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرے تو اس کا خیر مقدم ہوتا ہے۔دہشت گردی کے خطرات کے باوجود ملک میں انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے۔

Advertisement