Advertisement
پاکستان

سائفر کیس، شاہ محمود قریشی اور پراسیکیوٹر کے ایک دوسرے پر لفظی وار

ج صاحب کی گارنٹی کے باوجود تصدیق نہ ہونے کے باعث این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے، شاہ محمودقریشی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 23rd 2024, 8:54 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سائفر کیس، شاہ محمود قریشی اور پراسیکیوٹر کے ایک دوسرے پر لفظی وار

اڈیالہ جیل میں آج ہونے والی سائفر کیس کی سماعت دوران شاہ محمود قریشی پراسکیوٹر پر برہم ہوگئے اور دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ جج صاحب کی گارنٹی پر میرے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ تصدیق نہ ہونے کے باعث این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے، تصدیق کا کہا گیا تو جج صاحب نے کہا میرا حکم نامہ ساتھ لگا دو، جج صاحب کے حکم نامے کے باوجود میرے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔

جس پر جسٹس ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ شاہ صاحب ہم نے قانونی طریقہ کار پورا کردیا تھا۔ اس دوران پراسیکیوٹر بولے تو شاہ محمود قریشی غصے میں بولے میں اپنے بنیادی حقوق کی بات کر رہا ہوں، یہ بیچ میں کیوں بول رہے ہیں۔ جس کے بعد شاہ محمود قریشی اور پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

شاہ محمود قریشی نے پراسیکیوٹر کو کہا کہ تم اوپر سے آئے ہو، کون ہو تم، تمہاری کیا اوقات ہے، جس پر پراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی نے شاہ محمود قریشی کو جواباً کہا کہ تمہاری کیا اوقات ہے۔ جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین شاہ محمود قریشی کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے رہے۔

شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست جمع کرائی، جس پر جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ یہ آپ کا حق ہے، ہم اس درخواست کو دیکھ لیتے ہیں، آپ کے جو حقوق ہیں وہ آپ کو ملیں گے۔

Advertisement