Advertisement
پاکستان

سائفر کیس، سابق سفیر اسد مجید نے بھی اپنا بیان قلمبند کرا دیا

نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ڈی مارش ایشو کرنے کی تجویز دی تھی، اسد مجید

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 23rd 2024, 10:21 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سائفر کیس، سابق سفیر اسد مجید نے بھی اپنا بیان قلمبند کرا دیا

سائفر کیس، امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے بھی اپنا بیان قلمبند کرا دیا ہے۔

اسد مجید نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوری 2019 سے مارچ 2022 تک وہ امریکا میں پاکستان کے سفیر تھے۔7 مارچ 2022 کو امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور مسٹر ڈونلڈ لو کو ورکنگ لنچ پر مدعو کیا تھا۔ پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی جس کی میزبانی واشنگٹن میں پاکستان ہاؤس میں کی گئی۔

اسد مجید نے اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات میں ہونے والی کمیونیکیشن کا سائفر ٹیلی گرام سیکرٹری خارجہ کو بھجوایا گیا۔ پاکستان ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور ڈیفنس اتاشی بھی موجود تھے۔  ملاقات میں دونوں سائیڈز کو معلوم تھا کہ میٹنگ کے منٹس لئے جا رہے ہیں۔ سائفر ٹیلی گرام میں ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو اسلام آباد رپورٹ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خفیہ سائفر ٹیلی گرام میں ”خطرہ“ یا ”سازش“ کے الفاظ کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔ مجھے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی بلایا گیا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ڈی مارش ایشو کرنے کا فیصلہ ہوا، میں نے ڈی مارش ایشو کرنے کی تجویز دی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سائفر معاملہ پاکستان امریکا تعلقات کیلئے دھچکا تھا۔

Advertisement