کیس کی سماعت ٹیلی ویژن چینلز پر براہ راست نشر کی جا رہے ہے


سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہو گئی۔
چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بنچ ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے۔ بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل ہیں۔
کیس کی سماعت ٹیلی ویژن چینلز پر براہ راست نشر کی جا رہے ہے۔
چیف جسٹس نےکہا کہ ابھی تو اس کیس کی سماعت کا آغاز ہوا ہے آپ کی درخواست بھی لگ جائے گی، عدالتوں کو مچھلی منڈی نہ بنائیں،اب وہ زمانے گئےکہ چیف جسٹس کی مرضی ہوتی ہے، ہم نے کیسز فکس کرنے کیلئےکمیٹی تشکیل دی ہے۔نہ کمیٹی کو عدالت کا اختیار اور نہ ہی عدالت کو کمیٹی کا اختیار استعمال کرنا چاہیے۔ حامد خانسے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نےکہا کہ آپ نے کوئی درخواست دائر کی ہے تو کمیٹی کو بتائیں
چیف جسٹس نےریمارکس دئیےکہ آپکی درخواست کا فیصلہ کمیٹی کرے گی، ہم دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں،خود پر بھی انگلی اٹھانی چاہیے،اب وہ زمانہ چلا گیا جب چیمبر میں ملاقات کرکے کیس فکس کرایا جائے،ایک آئینی درخواست جب دائر ہوتی ہے تو اخباروں میں چھپ جاتی ہے، کیا یہ بھی ایک طرح کا پریشر ڈالنے کے مترادف ہے، میں تو کوئی دباؤ نہیں لیتا، ہمیں اپنے فیصلوں میں دباؤ نہیں لینا چاہیے، عجیب بات ہے کہ وکلاء مطالبہ کرتے ہیں کہ ازخود نوٹس لیں۔
چیف جسٹس نےکہا ایک بات واضح کرتا چلوں کی عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، چار سال تک سپریم کورٹ میں فل کورٹ نہیں ہوئی،اس وقت ساری بارز اور وکلاء کہاں پر تھے،وکلا کہتے ہیں سوموٹو لے لو ، پھر وکلا کو وکالت چھوڑ دینی چاہیے، میں آپ کو وکلا کے نمائندے کے طور پر نہیں لے سکتا،وکلا کے نمائندے کے طور پر بار کے صدر موجود ہیں۔
چیف جسٹس نےکہا ہم شاید پروپیگنڈا میں گوئبلز کے زمانے کو واپس لا رہے ہیں، جس دن خط آیا اسی دن ہائیکورٹ ججز سے ملاقات ہوئی، اس سے زیادہ چستی سے شاید کسی نے کام کیا ہو،ہم اس معاملے کو اہمیت نہ دیتے تو کیا یہ میٹنگ رمضان کے بعد نہیں ہو سکتی تھی،26 تاریخ کو ہمیں ہائی کورٹ کے ججز کا خط ملا، اسی روز ہی افطاری کے فوری بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت تمام ججز سے ڈھائی گھنٹے ملاقات ہوئی، اگر ہم اس بات کو اہمیت نہ دیتے تو فوری چیف جسٹس ہاوس میں فل کورٹ اجلاس نہ بلاتے، ہم ’’گوئبلز‘‘ کے زمانے کو واپس لا رہے ہیں،ہمیں اپنا کام تو کرنے دیں عدلیہ کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،وزیراعظم سے ملاقات انتظامی نوعیت کی تھی،آفیشل انتظامی میٹنگ کا درجہ دینا چاہتے تھے،وزیراعظم سے ملاقات جوڈیشل نوعیت کی نہ تھی، اٹارنی جنرل صاحب آپ سے رجوع کیا تو آپ نے اچھا کردار ادا کیا۔
اٹارنی جنرل نےدلائل میں انکشاف کیا کہ چیف جسٹس نے وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جب میں نے وزیراعظم کو بتایا کہ چیف جسٹس آپ سے ملنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ پہلی فرصت میں ملاقات طے کی جائے۔
چیف جسٹس نےکہاکہ یہ بھی بتا دیں کہ جو انکوائری کمیشن کے لیے نام ہم نے تجویز کیے تھے۔
اٹارنی جنرل نےکہاکہ جی بلکل جسٹس (ر) تصدق جیلانی سمیت دیگر نام عدلیہ کی جانب سے تجویز کیے گئے تھے، کابینہ کی میٹنگ کے بعد جسٹس (ر )تصدق جیلانی کا نام فائنل کیا گیا،سوشل میڈیا پر انکوائری کمیشن سے متعلق غلط باتیں کی گئیں،حکومتی کمیشن کی تمام حکومتی ادارے معاونت کے پابند ہیں،سابق چیف جسٹس ناصر الملک کا نام بھی انکوائری کمیشن کیلئے سامنے آیا، تصدق جیلانی صاحب ایک غیر جانبدار شخصیت کے مالک ہیں، وزیر اعظم سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی سے ملے اور کمیشن کی تشکیل کا بتایا، سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی نے کہا ٹی او آرز کے بعد جواب دونگا۔
چیف جسٹس نےکہاکہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہوگا تو میں اور سارے ساتھی کھڑے ہونگے،عدلیہ میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے،وکلا تب کیوں نہیں بولے جب چار سال تک فل کورٹ اجلاس نہیں ہوا، ہم کسی قسم کا دباو نہیں لیں گے۔
اٹارنی جنرل کےدلائل کمیشن کے پاس بہت سے اختیارات ہیں،کمیشن کی ساری کارروائی جوڈیشل ہو گی، چیف جسٹس نے دو نام تجویز کئے تھے، جسٹس ر ناصر الملک،جسٹس (ر) تصدق جیلانی کے نام تجویز کئے گئے،جسٹس (ر) تصدق جیلانی سے وزیر قانون نے ملاقات کی،جسٹس ر تصدق جیلانی نے ٹی او آرز مانگے،وزیر اعظم نے ٹی او آرز کے بعد دوبارہ جسٹس تصدق جیلانی سے رجوع کرنے کی ہدایت کی، جسٹس ر تصدق جیلانی نے ہفتہ کے روز ٹی او آرز پر اتفاق کیا۔
چیف جسٹس نےکہا اس کے بعد کچھ ذاتی حملے شروع ہوگئے، کون شریف آدمی ایسے ماحول میں خدمت کریگا، ایک دباو سوشل میڈیا سے بھی آتا ہے،عجیب و غریب باتیں شروع کردی گئیں،سمجھ نہیں آرہا ہم کہاں جارہے ہیں،جسٹس ر تصدق جیلانی شریف آدمی ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا اور انکار کردیا۔
بلوچستان میں متعدد کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے 21 دہشت گرد ہلاک
- 4 days ago

پاکستان نے نارووال میں ہندو مندر بارے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد، سیاسی مقاصد پر مبنی دعووں کو مسترد کر دیا
- a day ago
آئمہ بیگ کا انسٹا گرام اسٹیٹس اچانک نظروں میں آگیا،علیحدگی کی افواہیں
- a day ago

وزیراعظم کی بشکیک میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
- 4 days ago
نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریاں: ٹنل سے 9 روز بعد 2 افرادکو زندہ نکال لیا گیا
- a day ago

پاکستان نے اگلے سال کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی
- 4 days ago
راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالہ لئی بپھر گیا، فوج طلب، تعلیمی اداروں میں تعطیل
- 4 days ago
پنجاب اسمبلی میں 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندی کی قرارداد منظور
- 4 days ago
میجر جنرل فیصل نصیر نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کا قومی کوآرڈینیٹر مقرر کردیا گیا
- 18 hours ago

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون نئے مرحلے میں داخل ہو گیا: طاہر اشرفی
- 21 hours ago

ملیک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر ہزاروں روپے کا اضافہ
- a day ago

اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل
- 5 days ago



