Advertisement
پاکستان

سپریم کورٹ میں ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سماعت شروع

کیس کی سماعت ٹیلی ویژن چینلز پر براہ راست نشر کی جا رہے ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ ایک سال قبل پر اپریل 3 2024، 5:03 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
سپریم کورٹ میں  ججز کے خط  پر ازخود نوٹس کی سماعت شروع

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ  کے ججز کے خط  پر ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہو گئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بنچ ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے۔ بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل ہیں۔

کیس کی سماعت ٹیلی ویژن چینلز پر براہ راست نشر کی جا رہے ہے۔

چیف جسٹس نےکہا کہ ابھی تو اس کیس کی سماعت کا آغاز ہوا ہے آپ کی درخواست بھی لگ جائے گی، عدالتوں کو مچھلی منڈی نہ بنائیں،اب وہ زمانے گئےکہ چیف جسٹس کی مرضی ہوتی ہے، ہم نے کیسز فکس کرنے کیلئےکمیٹی تشکیل دی ہے۔نہ کمیٹی کو عدالت کا اختیار اور نہ ہی عدالت کو کمیٹی کا اختیار استعمال کرنا چاہیے۔ حامد خانسے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نےکہا کہ آپ نے کوئی درخواست دائر کی ہے تو کمیٹی کو بتائیں

چیف جسٹس نےریمارکس دئیےکہ آپکی درخواست کا فیصلہ کمیٹی کرے گی، ہم دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں،خود پر بھی انگلی اٹھانی چاہیے،اب وہ زمانہ چلا گیا جب چیمبر میں ملاقات کرکے کیس فکس کرایا جائے،ایک آئینی درخواست جب دائر ہوتی ہے تو اخباروں میں چھپ جاتی ہے،  کیا یہ بھی ایک طرح کا پریشر ڈالنے کے مترادف ہے، میں تو کوئی دباؤ نہیں لیتا، ہمیں اپنے فیصلوں میں دباؤ نہیں لینا چاہیے، عجیب بات ہے کہ وکلاء مطالبہ کرتے ہیں کہ ازخود نوٹس لیں۔

چیف جسٹس نےکہا ایک بات واضح کرتا چلوں کی عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے،  چار سال تک سپریم کورٹ میں فل کورٹ نہیں ہوئی،اس وقت ساری بارز اور وکلاء کہاں پر تھے،وکلا کہتے ہیں سوموٹو لے لو ، پھر وکلا کو وکالت چھوڑ دینی چاہیے، میں آپ کو وکلا کے نمائندے کے طور پر نہیں لے سکتا،وکلا کے نمائندے کے طور پر بار کے صدر موجود ہیں۔

چیف جسٹس نےکہا ہم شاید پروپیگنڈا میں گوئبلز کے زمانے کو واپس لا رہے ہیں، جس دن خط آیا اسی دن ہائیکورٹ ججز سے ملاقات ہوئی، اس سے زیادہ چستی سے شاید کسی نے کام کیا ہو،ہم اس معاملے کو اہمیت نہ دیتے تو کیا یہ میٹنگ رمضان کے بعد نہیں ہو سکتی تھی،26 تاریخ کو ہمیں  ہائی کورٹ کے ججز کا خط ملا، اسی روز ہی افطاری کے فوری بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت تمام ججز سے ڈھائی گھنٹے ملاقات ہوئی، اگر ہم اس بات کو اہمیت نہ دیتے تو فوری چیف جسٹس ہاوس میں فل کورٹ اجلاس نہ بلاتے،  ہم ’’گوئبلز‘‘ کے زمانے کو واپس لا رہے ہیں،ہمیں اپنا کام تو کرنے دیں عدلیہ کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،وزیراعظم سے ملاقات انتظامی نوعیت کی تھی،آفیشل انتظامی میٹنگ کا درجہ دینا چاہتے تھے،وزیراعظم سے ملاقات جوڈیشل نوعیت کی نہ تھی، اٹارنی جنرل صاحب آپ سے رجوع کیا تو آپ نے اچھا کردار ادا کیا۔

اٹارنی جنرل نےدلائل میں انکشاف کیا کہ چیف جسٹس نے وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جب میں نے وزیراعظم کو بتایا کہ چیف جسٹس آپ سے ملنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ پہلی فرصت میں ملاقات طے کی جائے۔

چیف جسٹس نےکہاکہ  یہ بھی بتا دیں کہ جو انکوائری کمیشن کے لیے نام ہم نے تجویز کیے تھے۔

اٹارنی جنرل نےکہاکہ  جی بلکل جسٹس (ر) تصدق جیلانی سمیت دیگر نام عدلیہ کی جانب سے تجویز کیے گئے تھے، کابینہ کی میٹنگ کے بعد جسٹس (ر )تصدق جیلانی کا نام فائنل کیا گیا،سوشل میڈیا پر انکوائری کمیشن سے متعلق غلط باتیں کی گئیں،حکومتی کمیشن کی تمام حکومتی ادارے معاونت کے پابند ہیں،سابق چیف جسٹس ناصر الملک کا نام بھی انکوائری کمیشن کیلئے سامنے آیا، تصدق جیلانی صاحب ایک غیر جانبدار شخصیت کے مالک ہیں، وزیر اعظم سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی سے ملے اور کمیشن کی تشکیل کا بتایا، سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی نے کہا ٹی او آرز کے بعد جواب دونگا۔

چیف جسٹس نےکہاکہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہوگا تو میں اور سارے ساتھی کھڑے ہونگے،عدلیہ میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے،وکلا تب کیوں نہیں بولے جب چار سال تک فل کورٹ اجلاس نہیں ہوا، ہم کسی قسم کا دباو نہیں لیں گے۔

اٹارنی جنرل کےدلائل کمیشن کے پاس بہت سے اختیارات ہیں،کمیشن کی ساری کارروائی جوڈیشل ہو گی، چیف جسٹس نے دو نام تجویز کئے تھے، جسٹس ر ناصر الملک،جسٹس (ر) تصدق جیلانی کے نام تجویز کئے گئے،جسٹس (ر) تصدق جیلانی سے وزیر قانون نے ملاقات کی،جسٹس ر تصدق جیلانی نے ٹی او آرز مانگے،وزیر اعظم نے ٹی او آرز کے بعد دوبارہ جسٹس تصدق جیلانی سے رجوع کرنے کی ہدایت کی، جسٹس ر تصدق جیلانی نے ہفتہ کے روز ٹی او آرز پر اتفاق کیا۔

چیف جسٹس نےکہا اس کے بعد کچھ ذاتی حملے شروع ہوگئے، کون شریف آدمی ایسے ماحول میں خدمت کریگا، ایک دباو سوشل میڈیا سے بھی آتا ہے،عجیب و غریب باتیں شروع کردی گئیں،سمجھ نہیں آرہا ہم کہاں جارہے ہیں،جسٹس ر تصدق جیلانی شریف آدمی ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا اور انکار کردیا۔

Advertisement
سیلاب متاثرہ خواتین اور بچوں کو ریلیف کیمپوں میں سنگین مسائل کا سامنا

سیلاب متاثرہ خواتین اور بچوں کو ریلیف کیمپوں میں سنگین مسائل کا سامنا

  • 13 hours ago
پاکستان کی ٹرائی نیشن سیریز میں مسلسل دوسری فتح، یو اے ای کو 31 رنز سے شکست

پاکستان کی ٹرائی نیشن سیریز میں مسلسل دوسری فتح، یو اے ای کو 31 رنز سے شکست

  • 13 hours ago
پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ گئی، ڈی جی پی ڈی ایم اے

پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ گئی، ڈی جی پی ڈی ایم اے

  • 2 hours ago
دریائے ستلج میں وہاڑی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار

دریائے ستلج میں وہاڑی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار

  • 3 hours ago
پشاور اور ملحقہ علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال، پی ڈی ایم اے کا ریسکیو آپریشن جاری

پشاور اور ملحقہ علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال، پی ڈی ایم اے کا ریسکیو آپریشن جاری

  • 15 hours ago
اسرائیلی فوج کا حماس ترجمان ابو عبیدہ کو نشانہ بنانے کا  دعویٰ، حملے میں مزید 77 فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج کا حماس ترجمان ابو عبیدہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، حملے میں مزید 77 فلسطینی شہید

  • 3 hours ago
مریم نواز کا سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے انتظامیہ کو بروقت اقدامات کی ہدایت

مریم نواز کا سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے انتظامیہ کو بروقت اقدامات کی ہدایت

  • 15 hours ago
مودی سرکار کی ناقص سفارتی پالیسیوں سے بھارت  عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار

مودی سرکار کی ناقص سفارتی پالیسیوں سے بھارت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار

  • an hour ago
پاکستانی آل راؤنڈر شاداب خان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش

پاکستانی آل راؤنڈر شاداب خان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش

  • 3 hours ago
پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری موسلا دھا ر  بارش سے سیلاب  متاثرین کی مشکلات میں اضافہ

پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری موسلا دھا ر بارش سے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ

  • 3 hours ago
مغربی افریقہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹنےسے 70 کے قریب افراد ہلاک

مغربی افریقہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹنےسے 70 کے قریب افراد ہلاک

  • a few seconds ago
لاہور میں تعلیمی سرگرمیاں یکم ستمبر سے بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

لاہور میں تعلیمی سرگرمیاں یکم ستمبر سے بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

  • 37 minutes ago
Advertisement