اجتماعی استعفے نہ دیے تو اس حکومت کی مدت طویل ہوتی جائے گی، مولانا فضل الرحمٰن
ملتان : جمعیت علمائی اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر ہم اجتماعی استعفے نہیں دیتے تو اس حکومت کی مدت طویل ہوتی جائے گی جبکہ پیپلز پارٹی کے لیے پی ڈی ایم میں واپسی کے دروازے بند نہیں کیے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'پی ٹی آئی کی جس ناجائز اور ناکام حکومت کے خلاف قوم ایک ہوگئی تھی اور پی ڈی ایم، جو قوم کی آواز بن گئی تھی اس میں رخنہ ڈال کر کس کو فائدہ ہوا، یہ عام آدمی نے فیصلہ کرنا ہے کہ اب بھی اس کی آواز پی ڈی ایم ہے یا وہ جماعت جو اتحاد سے الگ ہو کر پی ٹی آئی میں بریکٹ ہوگئی ہے'۔
'ان کے ناجائز حکومت کے ساتھ مفادات مشترکہ کیوں ہوگئے ہیں اور وہ کیوں آج ان کی سیاست کر رہی ہے اور پی ڈی ایم ان کی تنقید کا نشانہ ہے، یہ ہمارے لیے تکلیف دہ بات ہے'
'25 جولائی 2018 کے بعد ہم نے جو موقف اختیار کیا تھا ہم آج تک اس سے ایک انچ پیچھے نہیں گئے اور نہ مطالبے سے پیچھے ہٹے ہیں، یہ حکومت 5 دن میں گرے یا 5 سال میں لیکن جب بھی تاریخ کا وہ صفحہ پلٹا جائے گا تو اس میں کراس کا نشان لگا ہوگا'۔
آئندہ انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کے انتخابی اتحاد کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں ہے، انتخابی اتحاد ہر جماعت اپنے مفاد کو دیکھ کر بناتی ہے لیکن ایسے اتحاد کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن کوئی چیز بعید از امکان نہیں ہوا کرتی'۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی جو بھی کرے پی ڈی ایم کو اس سے مسئلہ نہیں، ہمارا تعلق پارٹی سے ہے پارٹی کے افراد سے نہیں، لہٰذا (ن) لیگ کی طرف سے جو پی ڈی ایم کی طرف آئے گا اس سے تعاون کریں گے'۔
پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کے امکان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 'اگر وہ واپس آنا چاہتی ہے اور سوچتی ہے کہ اس نے کچھ غلط فیصلے کیے ہیں جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے تو ہم نے ان کی واپسی کے راستے بند نہیں کیے ہیں'۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ 'ہم عوام کی آواز بننے جارہے ہیں، کچھ تعطل ہوا لیکن 4 جولائی کو سوات، 29 جولائی کو کراچی میں جلسہ ہوگا اور اس کے بعد اسلام آباد میں بڑا جلسہ ہوگا'۔
استعفوں کے متعلق انہوں نے کہا کہ 'اب بھی سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اجتماعی استعفے نہیں دیتے تو اس حکومت کی مدت طویل ہوتی جائے گی، استعفوں کے آپشن سے بھاگ جانا اس حکومت کو وقت دینے کے مترادف ہے'۔
افغانستان سے امریکا کے انخلا اور پاکستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ '2001 میں جو معاہدے ہوئے تھے وہ بھی پاکستان کے خلاف اور ملک دشمنی پر مبنی تھے، پرویز مشرف نے پہلے پاکستان کا جھوٹا نعرہ لگایا اور ملک کو امریکا کی کالونی بنایا'۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'بجٹ میں حکومت 3 سے 4 فیصد کی شرح نمو کا ہدف بتائے گی لیکن وہ جھوٹ ہوگا'۔
کراچی ٹریفک پولیس اہلکار کی خودکشی، کیسے اور کہاں کی؟
- ایک دن قبل
قومی پیغامِ امن کمیٹی کا سکھ برادری سے اظہارِ یکجہتی
- ایک دن قبل
غیرملکی خواتین مبینہ زیادتی کیس: جوڈیشل مجسٹریٹ کی رہائش گاہ میں مبینہ دباؤ، ایس ایچ او سمیت اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج
- 2 دن قبل

امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی بھرپور حمایت، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی توثیق
- 2 دن قبل

کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر کوچ کھائی میں جا گری، 40 افراد جاں بحق، 8 زخمی
- 2 دن قبل

’کیری آن جٹا 4‘‘ نے لاہور میں داد سمیٹ لی
- 2 دن قبل
لوک گائیکی کے شہنشاہ عالم لوہار آج بھی امر
- 2 دن قبل
عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار ٹیلر سوئفٹ، امریکی فٹ بال لیگ کے مایہ ناز کھلاڑی ٹریوس کیلسی رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں پھر کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- ایک دن قبل
سنسنی خیز مقابلہ: ارجنٹائن کیپ ورڈے کو ہرا کر پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا
- ایک دن قبل
وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کی تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی یاد میں تعزیتی تقریب میں شرکت
- 2 دن قبل
غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کیس میں ’باس‘ سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
- ایک دن قبل

