Advertisement
پاکستان

آئینی بنچ میں ججز کی شمولیت کا پیمانہ طے ہونا چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ کا ایک اور خط

رولز میں آئینی بنچ کیلئے ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار طے ہونا چاہیے، آئینی بنچ میں کتنے ججز ہوں اس کا مکینزم بنانا بھی ضروری ہے،خط

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Dec 21st 2024, 6:35 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
آئینی بنچ میں ججز کی شمولیت کا پیمانہ طے ہونا چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ کا ایک اور خط

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے  اجلاس سے پہلے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو  ایک اور  خط لکھ دیا۔

جسٹس منصوڑ علی شاہ نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ رولز میں آئینی بنچ کیلئے ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار طے ہونا چاہیے، آئینی بنچ میں کتنے ججز ہوں اس کا مکینزم بنانا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے خط میں مزید لکھا کہ  آئینی بنچ میں ججز کی شمولیت کا پیمانہ طے ہونا چاہیے، کس جج نے آئینی تشریح والے کتنے فیصلے لکھے یہ ایک پیمانہ ہو سکتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں کہا گیا ہے کہ کس جج نے آئینی تشریح والے کتنے فیصلے لکھے، یہ ایک پیمانہ ہو سکتا ہے، کمیشن بغیر پیمانہ طے کیے سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بینچ تشکیل دے چکا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسی کو کردار دیا گیا تو اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، جوڈیشل کمیشن میں پہلے ہی اکثریت ایگزیکٹیو کی ہے، جج آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے، ججز تعیناتی کے رولز بھی اسی حلف کے عکاس ہونے چاہئیں۔

اپنے خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے مزید  لکھا کہ انٹیلی جنس ایجنسی کو کردار دیا گیا تو اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، جوڈیشل کمیشن میں پہلے ہی اکثریت ایگزیکٹو کی ہے، جج آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،ججز  تعیناتی کے رولز بھی اسی حلف کے عکاس ہونے چاہئیں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہو گا۔

Advertisement
Advertisement